لکھیم پور کھیری میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد بے مدت کرفیو اور دونوں فرقوں کے لوگوں کی گرفتاری جاری

لکھیم پور کھیری: اترپردیش کے لکھیم پور کھیری شہری میں ایک فرقہ کے نوجوانوں نے دوسرے فرقہ کی خواتین اور مذہبی عقائد پر قابل اعتراض ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دی جس کے بعد آتشزنی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے شہر میں نافذغیر معینہکرفیو جمعہ کو دوسرے دن بھی جاری ہے۔ ضلع کلکٹرآکاش دیپ کے مطابق کرفیو زدہ علاقوں میں اب صورتحال ٹھیک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حساس علاقوں میں پولیس گشت لگارہی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کل رات کرفیو نافذ ہونے کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایک فرقہ کے دو نوجوانوں نے کل سوشل میڈیا پر انتہائی قابل اعتراض ویڈیو جاری کردیا تھا۔
جس سے شہر میں اشتعال پھیل گیا جس کے مدنظر کلکٹر نے کرفیو لگانے کے احکام دے دیئے۔ کرفیو کی وجہ سے تمام اسکول کالج بند ہیں۔ قابل اعتراض ویڈیو کے وائرل ہونے پر شہر میں ہونے والے تشدد کے دوران شر پسندوں نے محلہ تھر برن گنج میں فائرنگ کی جس میں دو افرد زخمی ہوگئے۔ انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ بعد میں ایک زخمی کو حالت بگڑنے کی وجہ سے لکھنؤ روانہ کیا گیا۔
شر پسندوں نے دو موٹر سائیکلیں بھی پھونک ڈالیں ، سیکورٹی کے مدنظر دیگر اضلاع کے علاوہ رات کو لکھنؤ اور سیتا پور سے پی اے سی اور پولیس فورس بھیج دی گئی تھی۔پولس نے اس معاملہ میں بی جے پی لیڈر ونود گپتا سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان لوگوں پر بھیڑ کو تشدد پر اکسانے اورتوڑ پھوڑ کرانے کے الزامات ہیں۔واضح رہے کہ جن لڑکوں نے مبینہ طور پر دوسرے مذہب اور عقیدے کونشانہ بنا کر قابل اعتراض ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی تھی ان میں سے دو معاذ احمد اور عارف کو گرفتار کر کے پولس نے سیدھاجیل بھیج دیا۔دونوں بارھویں کلاس کے طالبعلم ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Curfew in ups lakhimpur kheri after communal clashes in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply