رام جنم بھومی کے اہم فریق نرموہی اکھاڑے میں سرپنچ کے انتخاب پر تنازعہ

اجودھیا:(یو این آئی)متنازع رام جنم بھومی کے ایک اہم فریق نرموہی اکھاڑے میں سرپنچ کے معاملہ پر تنازع کھڑا ہوتا نظر آرہاہے۔ اکھاڑے کے سرپنچ رہے بھاسکر داس کی ابھی حال میں موت ہوگئی تھی۔اکھاڑے کے سرپنچ ہونے کے باعث رام جنم بھومی تنازع میں وہی فریق تھے۔ان کی موت کے بعد نیا سرپنچ فریق ہوگا۔
اکھاڑے کی کل ہونے والی میٹنگ میں مہنت راجا رام چندرآچاریہ کو سر پنچ اورچتر کوٹ کے مہنت نرسنگھ داس کو نائب سرپنچ منتخب کیاگیا۔راجا رام چندرآچاریہ گجرات کے رہنے والے ہیں۔
آنجہانی بھاسکر داس فیض آباد کے ناکہ میں واقع ہنومان گڑھی کے مہنت تھے۔ان کی حیات میں ہی را م داس کو مہنت بنادیا گیاتھا۔بھاسکر داس علیل رہتے تھے ،اسلئے انہوں نے ہی یہ ذمہ داری رام داس کو سونپ دی تھی۔نرموہی اکھاڑے کے سرپنچ کے عہدہ کیلئے را م داس مضبوط امیدوار تھے،لیکن اکھاڑے کے سادھوؤں نے راجا رام چندرآچاریہ کو سرپنچ بنادیا۔
مہنت رام داس نے ا سے سازش قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ا وہ اس معاملہ کو اب عدالت میں لے جائیں گے۔ان کا دعویٰ ہے کہ بھاسکر داس نے ان کے نام کی وصیت کی تھی،اس پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔
قابل غور ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو اسپیشل بنچ نے 30ستمبر2010کو اپنے فیصلہ میں متنازع بابری مسجد/ رام جنم بھومی کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔اس میں ایک حصہ نرموہی اکھاڑے کو دیئے جانے کا حکم تھا۔یہ معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Controversy over the election of raja ram acharya as sarpanch of nirmohi akhara in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply