ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کے خلاف ملازمین کی ہڑتال کو کانگریس کی حمایت:ماکن

نئی دہلی:مرکزی حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں نظرثانی کے لئے کل ساتویں پے کمیشن کے اعلان کے بعد آئندہ 11جولائی کو ملازمین کی ہڑتال کی کانگریس نے مکمل حمایت کرنے کافیصلہ کیا ہے۔
کانگریس کی دہلی اکائی کے صدر اجے ماکن نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں پے کمیشن کی سفارشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ اب تککی سب سے مایوس کن پے کمیشن کی سفارشات ہے، جس میں تنخواہوں میں انتہائی کم اضافہ کیاگیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے سرکاری ملازمین کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس نے سرکاری ملازمین کا گلادبادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا ایسا پے کمیشن ہے جس میں مہنگائی بھتہ(ڈی اے) کو بنیادی مشاہرے میں ضمنہیں کیا گیا ہے۔
کیونکہ ڈی اے جب 100 فیصد ہوجاتا ہے اسے پے کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے وقت اسے بنیادی تنخواہ میں ضم کردیا جاتا ہے لیکن 7ویں پے کمیشن کی سفارشات میں ایسانہیں کیا گیا، جس سے سرکاری ملازمین کا نقصان ہوا ہے۔
ماکن نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے ایسے پے کمیشن کی سفارشات کا اعلان کیا ہے جس سے 47 لاکھ سرکاری ملازمین اور 53 لاکھ پنشن یافتگان کو خاصا نقصان ہورہا ہے اور وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں پیش کردہ چھٹے پے کمیشن کی سفارشات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔
لیکن کل اعلان کردہ سفارشات میں محض 27 14.فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مسٹر ماکن نے کہا کہ اس پے کمیشن میں ایسی پالیسی بنائی گئی ہے۔ جس سے کہ بیوروکریٹس کی تعداد کم کی جاسکے۔
اس کے علاوہ اس میں بالواسطہ طور پر ملازمین پر رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ (وی آر ایس) لینے کا بھی دباو¿ ڈالا گیا ہے تاکہ ان کی تعداد کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 7ویں پے کمیشن میں ملازمین کے مفادات والی سفارشات کو نظرانداز کیا گیا جبکہ ان کو نقصان پہنچانے والی سفارشات کو مان لیا گیا (یو این آئی)

Title: congress will support govt employees strike aa | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply