چیف جسٹس کے خلاف مواخذہ نوٹس خارج کرنے کا فیصلہ غیر قانونی، سپریم کورٹ جائیں گے:کانگریس

نئی دہلی: نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو کے ذریعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس مسترد کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ کسی بھی تحریک مواخذہ کو ابتدائی مرحلہ میں ہی کبھی خارج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرے گی۔کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ 64 ممبران پارلیمنٹ کے دستخط والے نوٹس سے شروع ہوئی تحریک ملامت کے عمل کو چےئرمین نے ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد کردیا ہے جبکہ انہیں اس کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور ایسا کرنا ان کے دائرہ اختیار سے قطعی باہر ہے۔ سبل نے کہا کہ تحریک مواخذہ کے نوٹس پر دستخط کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد’ ان کے دستخط اور جانچ اور الزامات کی نوعیت دیکھی جاتی ہے۔ الزامات کی جانچ کے لئے ایک گروپ تشکیل دیا جاتاہے۔ جو تحقیقات کے بعد اپنی رپو راجیہ سبھا چےئرمین کو پیش کرتا ہے لیکن چےئرمین نے بغیر جانچ کے ہی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نوٹس کو خارج کردیا ۔ ا کپل سبلنے الزام لگایا کہ حکومت پورے معاملے کو دبانا چاہتی ہے۔ نوٹس میں لگائے گئے الزامات کے ثبوت اور دیگر دستاویزات سی بی آئی اور دیگر جانچ ایجنسیوں کے پاس ہیں۔ اگر چےئرمین نوٹس ملنے کے بعد تحقیقاتیکمیٹی تشکیل دیتے تو ان الزامات کی سماعت ہوتی اور ثبوت اور گواہ پیش کئے جاتے۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور نوٹس مسترد کر دیا گیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Congress slams venkaiah naidu for rejecting impeachment notice in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply