کانگریس و ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کو راوت کو نیا فوجی سربراہ بنانے پر اعتراض

نئی دہلی:کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی نئے فوجی سربراہ کے طور پر تقرری پر سوال اٹھایا ہے ۔
کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے لیفٹیننٹ جنرل راوت کو فوجی سربراہ مقرر کئے جانے پر حکومت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل راوت نہایت قابل اور حوصلہ مند ہیں لیکن حکومت کو یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ اس نے نئے فوجی سربراہ کی تقرری میں تین سینئر اہلکار لیفٹیننٹ جنرل پروین بخشی، لیفٹیننٹ جنرل علی حارث اور وسطی کمان کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بی ایس نیگی کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟
انہوں نے کہاکہ میں صرف امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ فوج میں یہ دیدہ دلیری سپریم کورٹ جیسے دیگر اداروں میں جبر کی ابتدا نہ ہو۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے بھی حکومت پر لیفٹیننٹ جنرل راوت کو ان سے سینئر دو افسران پر فوقیت دے کر ترجیح کے اصول کی خلاف ورزی کرکے فوجی سربراہ بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوجی سربراہ بنائے جانے کے پیچھے کیا منطق ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ فوج میں تقرریوں اور چیف ویجلنس کمشنر اور سب سے اعلیٰ سطح کی دیگر تقرریوں کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Congress questions lt general bipin rawats appointment as army chief in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply