اترا کھنڈ میں صدر راج کے خلاف کانگریس نے ہائی کورٹ کے دروازے پر دستک دی

دہرہ دون: کانگریہس نے اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے نینی تال میں واقع ہائی کورٹ میں ایک عذر داری داخل کر دی۔پارٹی لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے یہ عذر داری داخل کر کے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی مخالفت کی۔عدالت نے پیر کے روز اس معاملہ کی سماعت کرکے فیصلہ منگل تک محفوظ رکھا ہے۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ ہریش راوت 33اسمبلی اراکن کے ہمراہ گورنر سے ملاقات کرنے راج بھون گئے ۔
ملاقات کے بعد راوت نے میڈیا کے نمائندون کو بتایا کہ انہوں نے گورنرکو دو میمورنڈم دیے ہیں۔جن پر34ممبران اسمبلی کے دستخط ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ راج بھون جانے والوں میں 27کانگریس کے، 3آزاد، دو بی ایس پی اور ایک یو کے ڈی کا ممبر اسمبلی ہے۔اسی دوران بی جے پی لیڈر بھگت کوشیاری بھی اپنے ساتھ 27بی جے پی اراکین اسمبلی کو لے کر راج بھون پہنچ گئے ہیں۔
بی جے پی نے باغی 9ممبران کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اب وہ بھی ریاست میں حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر سکتی ہے کیونکہ اس کے اپنے27اراکین ہیں اور 9باغی اراکین کے ساتھ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت اسے حاصل ہو جائے گی۔بی جے پی کے جنرل سکریٹری وجے ورگئیہ نے کہا کہ پارٹی کو 36اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
واضح رہے کہ 18مارچ کو اتر کھنڈ میں حکمراں جماعت کانگریس کے 9اراکین اسمبلی نے بغاوت کر دی تھی جس کے بعد ہریش راوت کی قیادت والی کانگریس حکومت اقلیت میں آگئی تھی اور ریاست پر صدر راج کے نفاذ کے بادل منڈلانے لگے تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Congress challenges imposition of president rule in uttarakhand in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply