کمسن بچوں کے حوالے سے عدالتی معاملات ججوں کی قلت کا شکار نہیں بنیں گے:چیف جسٹس

نئی دہلی :ملک کی عدالتوں میں ججوں کی خالی جگہوں کو بھرنے کو لے کر ’جذباتی‘ فریاد کرنے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیاکہ بچوں کی اسمگلنگ یا یتیم بچوں سے متعلق معاملات کے تصفیے میں ججوں کی قلت یا دیگر بنیادی ڈھانچے کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔
انہوں نے اس میں سرکاری میکانزم کے کردار کو خاصا اہم قرار دیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی اسمگلنگ پر روک یا یتیم بچوں کی حوالگی اور بازآبادکاری وغیرہ جیسے معاملے میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرے۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جتنی سہولیات ہیں، قومی سطح پر یعنی ہندستان میں اس سے کم قانون نہیں ہے، اس کے باوجود یہاں کے بچوں کی اسمگلنگ اور ان پر ظلم و ستم کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے لاپتہ اور اسمگلنگ کے شکار بچوں کی بازآباد کاری پر قومی ورکشاپ کے افتتاحی تقریر میں کہا کہ سرکاری مشینری متعلقہ قوانین کو عملی جامہ پہنانے پر مزید سرگرمی دکھانے کے ساتھ ہی فنڈ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے ضروری قدم بھی اٹھائے۔
انہوں نے سرکاری مشینری سے اس طرح کے معاملات میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس ٹھاکر نے بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق قاعدے قوانین کو بہت ہی نرم و نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی اسمگلنگ پر روک لگانے سے لے کر مجرموں سے آزاد کرائے گئے بچوں کی فلاح و بہبود اور بازآبادکاری تک کا عمل بہت ہی ڈھیلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود کے مراکز اور دیگر متعلقہ تنظیموں کا کام کاج تو ڈھیلا ہے ہی ان سے وابستہ کمیٹیوں میں ہم آہنگی کا فقدان بھی رہتا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Conditions in child protection homes sub human cji ts thakur in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply