بنگال میں فسادیوں کو ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی سرپرستی و حمایت حاصل:ملی اتحاد پریشد

کولکاتا:ملی اتحاد پریشد نے مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال حکومت اور پولس انتظامیہ گزشتہ چا ر یاپانچ دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ فسادیوں کے سامنے بے بس نظر آئی اور چار دنوں تک فسادات ہوتے رہے مگر حکومت کوئی کارروائی نہیں کرسکی۔پریشد نے کہا کہ ریاست میں مسلسل فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلائی جارہی ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔
کلکتہ پریس کلب میں ملی اتحاد پریشد کے جنرل سیکریٹری حاجی عبد العزیز نے کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کی حکومت فسادیوںاور ہندو انتہا پسند تنظیموں کے سامنے نہ صرف بے بس نظر آرہی ہے بلکہ بعض مقامات پر تو فسادیوں کو پارٹی کے لیڈروں کی سرپرستی حاصل ہے۔انہوں نے شمالی 24پرگنہ کے حاجی نگر، مارواڑی میں منگل کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس کے غیر مسلم لیڈروں اور کارکنوںنے آر ایس ایس کے ساتھ مل کر فساد برپا کیا۔
عبد العزیز نے اس موقع پر ملی اتحاد پریشد کے دورہ کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی ریاست کی سیکولرطاقتوں کو کمزور کررہی ہے۔کانگریس اور بایاں محاذ کے لیڈران پر حملے ہورہے ہیں۔ان کے لیڈروں کو ترنمول کانگریس میں شامل کیا جارہا ہے مگر بی جے پی کے تئیں ان کا رویہ بہت ہی نرم ہے۔ایک بھی بی جے پی کا لیڈر ترنمول کانگریس میں شامل نہیں ہوا ہے۔جب کہ کانگریس اور بایاں محاذ کے لیڈروں کو شامل کرنے کیلئے ترنمول کانگریس نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Communal violence in bengal in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply