اجمیر شریف میں بابا فرید گنج شکرؒ کا چلہ 4محرم کو کھلے گا

اجمیر:ماہ محرم میں پورے ملک میں مختلف قسم کے پروگرام ہوتے ہیں لیکن اجمیر شہر میں محرم کے موقع پر بابا فرید ؒ کا چلہ کھلنے کا ایک خاص ہی پروگرام ہوتا ہے۔ سال میں ایک بار کھلنے والے اس چلہ کی زیارت کے لئے پورے ملک سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین اجمیر شریف حاضر ہوتے ہیں۔ درگاہ کمیٹی صدر شیخ علیم نے بتایا کہ یہ چلہ محرم کی 4 تاریخ کو صبح 4 بجے کھولا جاتا ہے۔ جو 7 تاریخ کو آستانہ شریف کے معمول ہونے کے ساتھ ہی بند کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں پر بابا فرید گنج شکر ؒنے بیٹھ کر عبادت اوردعا کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ عالم بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ ہیں۔ آپ کا اصل نام مسعود اور عرفیت فریدالدین ہے۔ آپ تقریباً1173 مطابق589ھ کو ملتان کے قریب کھوتیوال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ملتان کی ایک مسجد میں حاصل کی۔ یہیں آپ کی ملاقات حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ سے ہوئی۔ یہیں پر آپ ان سے بیعت ہوئے۔ مرشد کے حکم سے آپ دنیاوی و سماجی تعلیم کے لئے قندھار اوردوسرے ملکوں کے سفر کے لئے روانہ ہوئے اور آخر میں دہلی پہنچے۔
بابا قطب الدین بختیار کاکیؒکے وصال کے بعد آپ کو چشتیہ سلسلے کی سربراہی عطا ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کے جانشین اورخلیفہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ادب میں پہلے پنجابی شاعر ہیں۔ آپ کی شاعری میں دور کے کئی مقامی دیوانوں کا اثر ملتا ہے۔ آپ کی شاعری کی سیاہی خالی عشق اللہ اور سماجی فلاح کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ فارسی، عربی اور سنسکرت کے لفظوں کا استعمال بھی ہمیں ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی والدہ بی بی کلثوم نے پہلی بار جب بابا فرید کو نماز پڑھنے کی ہدایت کی تو کچھ اس طرح سے سمجھایا کہ جب چھوٹے بچے نماز پڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں شکر انعام دیتے ہیں۔ بابا فرید نماز پڑھتے تو ان کی والدہ چپکے سے جاکر مصلے کے پیچھے شکر رکھ دیتیں۔ نماز کے بعد بابا فرید شکر کی پڑیا لے کر بہت خوش ہوجاتے۔ ایک مرتبہ والدہ پڑیا رکھنا بھول گئیں تواگلے دن بیٹے سے حیرانی سے پوچھا تم کو کل شکر کی پڑیا مل گئی تو بابا فرید نے جواب دیا کہ” ہاں“۔ تو والدہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آج اللہ نے میری لاج رکھ لی اور کل میرے بیٹے کو اللہ نے انعام دیاہے۔ ساتھ ہی کہا کہ مسعود آج سے تم گنج شکر ہوگئے ہو۔
آج تک آپ اپنی والدہ کے دیئے ہوئے اسی نام ”گنج شکر“ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5محرم الحرام 1265 مطابق666ھ کو 92 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی۔ آپ کا مزار پاک پٹن میں موجود ہے۔ مزار شریف پر آپ کے مرید شہنشاہ محمد بن تغلق نے کرائی۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ نے5محرم کی رات اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی اور تمام وظائف بھی پورے کئے۔ اس کے بعد آپ بیہوش ہوگئے۔ کچھ دیر بعد آپ کو دوبارہ ہوش آیا تو مولانا بدرالدین اسحق سے آپ نے پوچھا کہ میں عشا کی نماز ادا کی ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ آپ نے وتر کی نماز کے ساتھ ادا کی ہے۔ اس کے بعد آپ پھر بیہوش ہوگئے۔ جب دوبارہ ہوش آیا تو پھر آپ نے کہا میں دوبارہ نماز ادا کروں گا، کیا پتہ دوبارہ موقع ملے یا نہیں۔ مولانا کے مطابق اس رات کو آپ نے اس طرح تین مرتبہ نماز ادا کی۔ آپ نے چوتھی مرتبہ وضو کر کے نماز کی نیت کی۔ آپ سجدے میں گئے اور ہلکے سے ” یا حیی یا قیوم“ پڑھتے ہوئے آپ نے پردہ فرمایا۔ اس لئے محرم کی ۵ تاریخ کو پوری دنیا میں آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔ اجمیر شہر سے آپ کو بڑی محبت تھی۔ یہ شہرآپ کے دادا پیر کاشہر ہے۔
آپ نے اپنے کئی اشعار اور کلاموں میں صوفیا کے ساغر کا ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد سرکار غریب نواز کا دربار ہی ہے۔ درگاہ شریف میں مزار شریف کے نزدیک صندلی مسجد کے آگے آپ کا ایک مقام ہے جسے ”چلہ بابا فرید“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بابا فرید نے اسی مقام پر بیٹھ کر عبادت وریاضت کیا کرتے تھے۔ زیارت کے لئے ہر سال یہ چلہ محرم کی ۴ تاریخ کی صبح سے ۷ تاریخ کو عشا کی نماز تک کھولا جاتا ہے۔ چلے تک پہنچنے کے لئے تقریباً ساڑھے آٹھ فٹ سیڑھیوں سے نیچے جانا ہوتا ہے۔ یہاں پر لگ بھگ 4×8کاایک چبوترہ ہے جہاں پرزائرین زیارت کے لئے جاتے ہیں اور گلاب کے پھول پیش کرتے ہیں۔1975 میں درگاہ کمیٹی سے اجازت لے کر خدام خواجہ صاحب کی جانب سے یہاں کے داخلی دروازہ پر ایک چھوٹا گنبد بھی بنایا ہے، جہاں پر لوگ سرخ رنگ کا لچھا باندھ کر مرادیں بھی مانگتے ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Chilla of baba farid in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply