مرکز نے تحقیقاتی ایجنسیوں کو بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد میں غیر ملکی ہاتھکا سراغ لگانے کا حکم دیا

نئی دہلی:ان خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے کہ 24 پرگنہ کے بشیر ہاٹ میں ہند بنگلہ دیش سرحد پربم پھینکے گئے اور تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، مرکز نے ریاستی حکومت اور مرکزی ایجنسیوں سے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کریں کہ ریاست میں کیے گئے اس تشدد میں سرحد پار کے شرپسند عناصر کا تو ہاتھ نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق ایسی خبریں ملی ہیں کہ سرحد پار کے کچھ گروپوں نے بدوریا علاقے میں ایک فیس بک پوسٹنگ کی وجہ سے بدرریا علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ سرحدی سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی چار کمپنیوں کو سول اور پولیس انتظامیہ کی مدد کے لئے مرکز کی طرف سے تعینات کیا گیا ہے تاکہ سرحد پر نگرانی بڑھایا جا سکے۔
مرکز کو بتایا گیا ہے کہ ضلع میں بشیرہاٹ، بدوریااورڈے گنگاکے تحت پولیس اسٹیشن کے علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ سیالدہ۔حسن آباد حصے میں ناکہ بندی کی وجہ سے ریلوے خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ شہری انتظامیہ نے مرکزی حکومت کے حکام کو غیر رسمی طور پر بتایا کہ حالات اگرچہ معمول پر ہیں لیکن متاثرہ علاقوں میں “کشیدگی” اب بھی پائی جاتی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی محکمہ داخلہ کو ایک فیس بک پوسٹنگ کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ جھڑپیں کیسے شروع ہوگئیں اس کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ پولیس نے ایک 17 سالہ نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Centre orders probe on involvement of elements from across border in bengal violence in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply