سی بی آئی کو بوفورس مقدمہ میں اسپیشل لیو پٹیشن داخل نہیں کرنی چاہیے:اٹارنی جنرل

نئی دہلی: اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ سی بی آئی بوفورس دلالی معاملہ میں سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر نہ کرے کیونکہ وہ خارج کی جا سکتی ہے۔
محکمہ عملہ وتربیت کو ارسال کردہ ایک حالیہ مکتوب میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ سی بی آئی کو اپنا موقف سپریم کورٹ میںمعرض التوا میں پڑے اسی نوعیت کے ایک دوسرے مقدمہ میں،جس میں وہ خود بھی ایک فریق ہے،پیش کرنا چاہیے۔
سی بی آئی نے کہا ہے کہ وہ 31مئی 2005کے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کرنا چاہتی ہے جس میں اس نے اس مقدمہ میں یورپ مقیم ہندوجا برادران پر عائد الزامات باطل قرار دیے تھے۔محکمہ عملہ و تربیت نے بوفورس معاملہ میں اسپیشل لیو پٹیشن داخل کرنے کی اجازت دینے کے لیے سی بی آئی کی درخواست پر اٹارنی جنرل سے رائے مانگی تھی۔
جس پر انہوںنے جواب دیا کہ معاملہ 12سال پرانا ہو چکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ میں اگر اس ضمن میں اسپیشل لیو پٹیشن دی گئی تو وہ خارج کی جا سکتی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cbi should not file special leave petition in bofors case attorney general in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment