مویشیوں کی خرید و فروخت نوٹی فکیشن کا گؤ کشی سے کوئی تعلق نہیں ہے :جیٹلی

نئی دہلی:مرکزی حکومت نے آج کہا کہ مویشیوں کے سلسلے میں اس کا تازہ ترین نوٹیفکیشن صرف ان کی فروخت تک محدود ہے اور اس کا ذبیجہ کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ نوٹیفکیشن ریاستی حکومتوں کے حقوق میں کسی بھی طرح سے مداخلت نہیں ہے۔ وزیر خزانہ مسٹر ارون جیٹلی نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ’ نوٹفیکیشن کا تعلق اس بات سے قطعی نہیں ہے کہ آپ کسی مویشی کو ذبح کرتے ہیں یا نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے پاس اپنے قوانین کے علاوہ آئین کی دفعہ 48ہے جو مویشیوں کے تحفظ کے سلسلے میں انہیں ہدایت دیتی ہے۔ مذکورہ دفعہ میں کہا گیا ہے کہ ریاست (یا حکومت) زراعت او رمویشی پروری کو جدید اور سائنسی خطوط پر منظم کرے گی اور بالخصوص ان کی نسل کو محفوظ کرنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرے گی اور گائے اور بچھڑا اور دودھ دینے والے اور باربردار کے جانوروں کے ذبیحہ پر روک لگائے۔
مسٹر جیٹلی نے مزید کہا کہ جہاں تک گائے کے ذبیجہ کا معاملہ ہے ریاستیں اپنا قانون بناسکتی ہے یا نہیں بناسکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی وزارت ماحولیات کی طرف سے مرکزی حکومت کا نوٹیفکیشن ریاستوں کے اختیارات میں کسی طرح کی مداخلت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1950کی دہائی میں پنڈت جواہر لال نہرو کے دوران یکے بعد یگر ریاستوں نے ذبیحہ گاو کے سلسلے میں قوانین بنائے تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cattle trade rule has nothing to do with states cow slaughter laws jaitley in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply