کیا بیوی کو ایک نشست میں تین طلاق مسترد کرنے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ سے پوچھا کہ کیا منکوحہ خاتون کو ایک ساتھ تین طلاق قبول نہ کرنے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ عدالت عظمیٰ نے بورڈ کے وکیل کپّل سبل کے توسط سے پوچھا کہ کیا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ علما کو یہ ہدایت جاری کر سکتا ہے کہ کیا نکاح نامہ میں یہ بھی لکھا جائے کہ نکاح میں آنے والی خاتون ایک نشست میں تین طلاق سے متفقہے یا نہیں۔ مسٹر سبل نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے تمام ممبروں سے رجوع کرنے کے بعد اس کا جواب دے گا۔ یہ سوال پانچ رکنی آئینی بنچ کی طرف سے پوچھا گیا ، جو چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کی صدارت میں طلاق ثلاثہ کی آئینی حیثیت پر سماعت کررہی ہے۔ آئینی بنچ میں ان کے علاوہ جسٹس روہنٹن فالی نریمن، جسٹس ادے اومیش للت، جسٹس کوریئن جوزف اور سید عبدالنظیر شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا پرسنل لاء بورڈ مسلم خواتین کو یہ حق دلاسکتا ہے؟ اور کیا بنیادی سطح پر تمام قاضی حضرات پرسنل لاء بورڈ کی ایڈوائزری پر عمل کریں گے؟ واضح رہے کہ بورڈ نے کل کہا تھا کہ مسلمانوں میں شادی کی حیثیت ایک معاہدے کی ہے اور خواتین اپنے مفادات اور وقار کے بہتر تحفظ کے لئےت نکاح نامے میں خصوصی شقیں شامل کرا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں پرسنل لاء بورڈ کے ایک وکیل یوسف حاتم مچھالا نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ تمام قاضیوں پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی پابندی لازمی نہیں ہے، تاہم وہ ہر طرح کے مشوروں پر غور و فکر کے بعد عمل کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں جمعیت علمائے ہند کے وکیل راجو رام چندرن کی دلیلیں جاری ہیں۔ انہوں نے بحث شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 54 سالوں سے تمام طبقات کے لئے پرسنل لاء کے علاوہ سیکولر قانون دستیاب ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام طبقات کے لئے سیکولر قانون کو فروغ دے۔

Title: can women have the right to decline instant triple talaq supreme court | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply