بی ایس ایس سی سکریٹری کی گرفتار ی ریاست میں قانون کی حکمرانی کاواضح ثبوت: جے ڈی یو

پٹنہ:بہار میں حکمراں مہاگٹھ بندھن کی ایک بڑی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن (بی ایس ایس سی) کے انٹرسطح کے مقابلہ جاتی امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے معاملے میں اپوزیشن جماعتوں کی بیان بازی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ اس معاملے میں بی ایس ایس سی سکریٹری کی گرفتاری یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی ہے۔
جے ڈی یو ترجمان راجیو رنجن پرساد نے یہاں کہا کہ بی ایس ایس سی پیپر لیک معاملے میں سکریٹری سمیت چند لوگوں کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ بہار میں قانون کے خلاف کام کر کے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماو¿ں کی بے بنیاد بیان بازی خواہ مخواہ ریاستی حکومت کی مخالفت میںپڑے رہنے کی عادت میں شامل ہے۔ مسٹر پرساد نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت میں ہوئے ویاپم گھوٹالے کے حوالے سے اپوزیشن پر شدید حملے کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بدنام یہ گھوٹالہ جس پارٹی کے راج میں ہوا، اس پارٹی کے بہار کے رہنما کس منہ سے اپنی ریاست پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریاست میں بدعنوانی کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی پر کام کرتے ہیں۔ یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ قانون توڑنے والوں کو بچانے کی روایت بی جے پی میں ہے۔ جے ڈی یو ترجمان نے کہا کہ خواہ شراب بندی کا قانون توڑنے والا کوئی ایکٹ ہو یا عام جرم یا پھر تعلیم کے شعبے میں کوئی کرپشن سامنے آیا ہو، بہار میں ہمیشہ طبقہ ذات و نسل اور چھوٹے بڑے کا امتیاز کئے بغیر قانون نے اپنا کام آزادانہ کیا ہے۔ یہاں نہ کسی کو پھنسایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی کو بچایا جاتا ہے۔

Title: bssc paper leak | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply