باپ کی میت پر آنسو بہاتے بچے کا فوٹو وائرل ہوتے ہی32لاکھ روپے کا چند ہ جمع ہو گیا

نئی دہلی: قومی دارالخلافہ میں ایک سیور کی صفائی کرنے والے ملازم کی اندوہناک حادثہ میں موت اور پھر اس کے 11سالہ بیٹے کا اپنے باپ کی میت کے قریب کھڑے ہو کر رو پڑنے کا دلخراش منظر دہکھ کر ہندوستانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کا دل ایسا پسیجا کہ انہوں نے ایک ہی دن میں اس بچے اور مہلوک کے لواحقین کی امداد کے لیے 43ہزار829(31لاکھ 90ہزار 94 ہندوستانی روپے)جمع کر لیے۔

دہلی کا انل نامی یہ 27سالہ صفائی ملازم ایک رسی پکڑ کر سیور کے اندر اتر رہا تھا کہ رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور انل سیور مین جا گرا اور دم توڑ گیا۔ انل کے آخری رسوم کی ادائیگی سے قبل اس کا 11سالہ بیٹا اس ے قریب پہنچا اور اس نے اس کے چہرے سے چادر ہٹائی اور اس کے گال اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے اور بس پاپا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کرر و پڑا۔

انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کا ایک کرائم رپورٹر شیو سنی نے اس روتے بلکتے بچے کی تصویر کھینچ لی اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور ساتھ ہی ٹوئیٹ کیا” کمسن بیٹا باپہ کی میت کے قریب پہنچا اس کے چہرے سے چادر ہٹائی اور اس کے گال اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پاپا کہا اور سسکیاں بھرنے لگا۔“

سنی نے مزید لکھا کہ وہ خود کرائم رپورٹر ہے اور کئی حادثات کی رپورٹنگ کر چکا ہے لیکن یہ ایسا دلدوز منظر تھا جسے اس سے قبل اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔سنی کے مطابق اس کے گھر والوں کے پاس ا س کے آخری رسوم کی ادائیگی کے لیے ایک پیسہ نہیں تھا ۔ سنی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایک ہفتہ پہلے ہی انل کا چار مہینے کا بچہ نمونیہ کے باعث انتقال کر چکا ہے۔

کیونکہ اس کے پاس دواخریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔سنی کے ٹوئیٹ سے اودے فاو¿نڈیشن نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک دوسرے ادارے کے تعاون سے چندہ اکٹھا کرنے کی اپیل کی اور اس بچے کی مدد کے لیے یاک خلقت امڈ پڑی۔اور اتنی کثیر رقم ایک ہی روز میں جمع ہو گئی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Boys heartbreaking photo raises dh158000 in one day in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment