مودی حکومت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردارختم کرنے کاجلد باقاعدہ اعلان کرے گی

نئی دہلی:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حوالے سے ہونے والی فروغ انسانی وسائل کی وزارت نے وہ حلف نامہ تیار کر لیا ہے جو سپریم کورٹ کی1967کی اس رولنگ کی موافقت میں ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
اس ضمن میں انڈیا ٹوڈے ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر یہ اعلان کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی درجہ کا استحقاق نہیں رکھتی۔
چونکہ یو پی اسمبلی کے حوالے سے اتوار کو الہٰ آباد میں بی جے پی کا ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے اس لیے وزارت فروغ انسانی وسائل نے ایک مسودہ تیار کیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے1967کے فیصلہ کی تائید کی گئی ہے۔
اس حلف نامہ سے جسے فروغ انسانی وسائل کی وزارت نے تیار کر کے بی جے پی کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ریاست اترپردیش میں ، جہاں چند ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں،مذہبی وذات برادری کا ابال آسکتا ہے۔
یاد رہے کہ عزیز باشا مدمقابل یونین آف انڈیا میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے اقلیتوں کو اپنی مرضی سے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا بنیادی حق دینے والی آئین کی دفعہ 30کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو تحفظ بہم پہنچانے سے انکار کر دیا تھا۔اور ساتھ ہی یہ کہتے ہوئے کہ یونیورسٹی مسلمانوں نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے قانون نے بنائی ہے،مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار مسترد کر دیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bjp to de tag amu of minority status prepares affidavit supporting 1967 sc ruling in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply