بی جے پی نے یشونت سنہا کی مودی حکومت پر تنقید کو کوئی اہمیت نہیں دی

نئی دہلی : بی جے پی نے جموں کے مقام پامپور میں لشکرطیبہ کے حملہ میں سی آر پی ایف کے 8 جوانوں کی ہلاکت کے ایک روز بعد سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سرکردہ رہنما یشونت سنہا کی مودی حکومت پر سخت تنقید کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔
لیکن یہ ضرور کہا کہ2014میں مرکز میں بر سر اقتدار آنے کے بعد سے ہندوستان کی عالمی حیثیت و درجہ میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ اس کی آج معتبریت،وقار اور حیثیت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بی جے پی ترجمان نلین کوہلی نے کہا کہ ہر شخص کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا استحقاق ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک تعلق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص واضح طور پر اس کے نتائج دیکھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کی شام یشونت سنہانے مودی حکومت کی پاکستان پالیسی کو یکسر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ جب اتنی بڑی تعداد میں ہمارے لوگ مارے جارہے ہوں تو اسے یہی کہا جاسکتا ہے یہ ہندوستان پر پاکستان کا کھلا حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی بہت سے ایسے رہنما ہیں جو پاکستان کو ’بے چارہ‘ کہہ کر اس کے ساتھ نرمی و محب اور گرمجوشی سے پیش آنے پر زور دیں گے جبکہ سچ ہے کہ وہ بے چارہ و لاچار و مجبور نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوں تو وہ ہم پر برسوں سے حملہ کررہا ہے لیکن ہمارے صبر و تحمل اور عفو ورگذر کے رویہ سے اب اس کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے اب اس نے ہمارے دفاعی عملہ و فوجی اڈوں تک کو براہ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ مسٹر سنہا نے مرکز کو تلقین کی کہ وہ ہمت سے کام لے اور پاکستان نے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے اسے جواب دہ بنائے ۔ اگر ہم پاکستان سے جواب طلب نہیں کرتے اور اس کے آگے گھٹنے ٹیکتے رہیں گے تو پٹھان کوٹ اور پامپور جیسے حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹھان کوٹ جیسے واقعات کے بعد ہم سینے پیٹتے ہیں آنسو بہاتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔
مسٹر سنہا نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے پاس نیوکلیائی اسلحہ ہے تو ہمارے بھی پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے تو میں دماغی طور پر مرچکا ہوں کیونکہ میں کوئی رائے دینے کے لائق بھی نہیں سمجھا جاتا مگر میں نے پاکستان کے تئیں اس حکومت کی پالیسی کی مسلسل مخالفت کی ہے۔
پامپور حملہ سے متعلق سرسری ردعمل کے لئے پاکستانی ہائی کمشنر پر شدید حملہ کرتے ہوئے بی جے پی کے سرکردہ رہنما نے زور دے کر کہا کہ عبدالباسط کا یہ کہنا کہ’ اس کے بجائے افطار پارٹی ‘ پر توجہ دینا زیادہ بہتر رہے گا۔جیسا جملہ کہنا ہمار ی کھلم کھلا تذلیل و تضحیک ہے۔سنہا نے مزید کہا کہ میں نے پہلے بھی پاکستانی ہائی کمشنر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کی بات کی تھی۔ اس موجودہ ہائی کمشنر کا ہندوستان کی سرزمین پر اب رہنا بالکل صحیح نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مسٹر باسط نے کل حملہ سے متعلق سوال کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ ہمیں اس افطار پارٹی پر توجہ دینی چاہیے۔ اور جموں اور کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جو تصفیہ طلب ہے۔ فی الحال تو روزہ افطار پر توجہ دیں۔’ آیئے ہم سب افطار کریں اور اس کا لطف اٹھائیں“۔کہتے ہوئے وہ کھانے کی میز کی جانب گھوم گئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: bjp downplays yashwant sinha criticism in Urdu | In Category: ہندوستان  ( india ) Urdu News

Leave a Reply