سب سے زیادہ بھیانک ہجومی تشدد تو 1984میں ہوا تھا: راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی:مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تیلگو دیشم پارٹی کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں کبھی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی کیونکہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے۔15سال بعد ایک حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے۔ہم نے دس سال میں جب کانگریس بر سر اقتدار تھی ایک بار بھی عدم اعتماد تحریک پیش نہیں کی کیونکہ ہم خوب سمجھتے تھے کہ کانگریس کو عوام کا مینڈیٹ ہے۔

انہوں نے کانگریس لیڈر ششی تھرور کے ”ہندو پاکستان “ تبصرے پر بھی کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے تبصرے ناقابل قبول ہیں ۔کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی نظریہ ہندوستان میں بھی اختیار کیاجائے۔کانگریس ہندو پاکستان اور ہندو طالبان کی بات کرتی ہے ۔وہ ہندستان کو کدھر لے جانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا اور ناقابل معافی و شدید قابل مذمت و گرفت ہجومی تشدد تو1984کا تھا۔جس کی آزاد ہندوستان میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

تمل منیلا کانگریس کے دنیش ترویدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی توجہ جب بھی ہجومی تشدد اور ملازمتیں پیدا کرنے جیسے اہم معاملات کی طرف دلائی گئی تو حکومت نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق حزب اختلاف پر ہی جوابی الزامات عائد کرنا شروع کر دیے اور ماضی کو کریدنا شروع کر دیا۔حکومت کے صرف یہ گھسے پٹے الفاظ ہندو،مسلمان،بھارت پاکستان، اور قبرستان شمشان ہی جواب کے طور پر سننے کو ملتے ہیں۔ کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ اگر کانگریس نے بی جے پی کا طرز حکومت اختیار کیا ہوتا تو جمہوریت کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہوتا لیکن کانگریس نے جمہوریت کی آبیاری کی۔

انہوں نے مودی سے یہ بھی معلوم کیا کہ ”اچھے دن“ کہاں ہیں۔تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بدعنوان لوگوں کو شہ دینے اور آندھرا پردیش کے ساتھ وعدہ خلافی کا الزام لگایا۔ پارٹی کہاکہ مسٹر مودی نے تقسیم آندھراپردیش کے حوالے سے2014 میں انتخابی مہم کے دوران آندھرا کو ماں سے اور تلنگانہ کو نوزائیدہ سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس نے ماں کو مار ڈالا اور بچے کو بچا لیا ہے۔

اگر میں ہوتا تو دونوں کو بچا لیتا۔انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کی بات سے آندھرا پردیش کے لوگوں میں اعتماد بحال ہواتھا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔مرکز میں ان کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت بننے کے بعد چار سال تک ریاست کے لوگ اسی امید میں رہے کہ ان کا مطالبہ پورا ہوگا لیکن مودی حکومت نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

قبل ازیں تحریک کے حوالے سے تمام مقررین سے پر زور اپیل کی کہ وقت کی تنگی کا خاص خیال رکھیں۔ لیکن کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے نے کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کو اظہار خیال کے لیے دیا گیا وقت ناکافی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم تجویز ہے۔ پہلے بھی تحریک عدم اعتماد پر دو تین دن تک بحث ہو تی رہی ہے اور اسی لئے اس بار بھی وقت کی قید نہیںہونی چاہیے ۔جس پرپارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے مذاقاً کہاکہ ون ڈے میچوں کے دور میں اپوزیشن پانچ دن کا ٹیسٹ میچ کھیلناچاہتی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Biggest mob lynching took place in 1984 says rajnath singh in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply