سپریم کورٹ میں جج لویا کی موت کے معاملہ کی آئندہ سماعت2فروری تک موخر

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی تین ججی بنچ نے سی بی آئی کے اسپیشل جج بی ایچ لیوا کی2014میں پر اسرار حالات میں موت کے حوالے سے بامبے ہائی کورٹ اور اس کی ناگپور برانچ میں زیر سماعت دو عذر داریوں کو اپنے یہاں منتقل کر لیا۔
اور کسی کی آئندہ سماعت2فروری تک موقوف کر دی۔ سپریم کورٹ نے حکومت مہاراشٹر سے کہا کہ وہ جسٹس لویا کی موت کے حوالے سے تمام دستاویزات معائنہ کے لیے سپریم کورٹ کو دے دے۔
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دیگر ہائی کورٹوں کو بھی ہدایت کی کہ لویا کی موت سے متعلق معاملہ پر کوئی پی آئی ایل داخل نہ کرے۔جب مہاراشٹر حکومت نے جج لویا کی موت سے متعلق دستاویزات پیش کر دیں تو سپریم کورٹ نے کہا کہ حالیہ عذر داریاں تشویش ناک ہیں اور ہمیں ایک دستاویز کو نہایت باریکی سے دیکھنا اور ان کا غائر مطالعہ کرنا ہوگا۔اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے تمام فریقوں سے کہا کہ جج لویا کی موت سے متعلق تمام دستاویزات پیش کی جائیں۔
بی ایل اے کے وکیل دشیانت دوے نے کہاکہ مہاراشٹر حکومت نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ ادھوری ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوںنے آر ٹی آئی کے توسط سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جج لویا کی موت فطری نہیں بلکہ مشکوک حالات میں ہوئی ہے ۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bench led by cji dipak misra transfers petitions related to justice loyas death to sc in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply