اتر پردیش میں مسلم خاندان کے13افراد نے ہندو مذہب قبول کر لیا

باغپت (اترپردیش): دہلی سے30کلومیٹر کی دوری پر واقع اترپردیش کے شہر باغپت میں ایک مسلم خاندان نے مبینہ طور پر ہندو مذہب کو قبول کر لیا۔ہندو یووا واہنی (بھارت) کے زیر اہتمام منگل کے روز ایک پنڈت نے ہون کرکے 13 افراد کو باضابطہ ہندو مذہب قبول کرایا۔

تبدیلی مذہب کے بعد ان تمام افراد نے ایس ڈی ایم کو اس حوالے سے ایک حلف نامہ سونپا ہے۔اور ضلع مجسٹریٹ نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔ اس ضمن میں استفسار کیے جانے پر باغپت ضلع مجسٹریٹ رشی ریندر کمار نے بتایا کہ بڑوت تحصیل میں کچھ لوگوں نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے حلف نامے دیئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق چھپرولی تھانے کے تحت علاقہ بدرکھا کا رہائشی اختر،جو گذشتہ چھ سات ماہ سے باغپت کوتوالی علاقہ کے نواڑہ گاؤں کے کھبی پورا میں رہائش پذیر ہے اپنے پورے کنبہ کو لے کر تحصیل باغپت پہنچا اور ایس ڈی ایم کو حلف نامہ دیا۔ حلف نامہ میں اس نے کہا کہ وہ ا پنے خاندان کے ساتھ بہ رضا و رغبت ہندو مذہب قبول کررہا ہے۔اس نے اور اس کے خاندان کے دیگر افراد نے اپنا نام بھی تبدیل کر دیا ہے۔

ہندو یووا واہنی کھوکھر کے مطابق منگل کی صبح بدرکھا گاؤں میں ہون اور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ ہوا جس میں مسلم خاندان کے 13 افراد نے اپنے پورے ہوش و حواس اور عقل و فہم کے ساتھ ہندو مذہب قبول کر لیا ہے۔ اس دوران سپرنٹنڈنٹ آف پولیس باغپت شیلش کمار پانڈے نے کہا کہ کچھ مسلمانوں کے تبدیلی مذہب کی اطلاع موصول ہوئی ہے بعض مسلمانوں کو مذہب کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اوروہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ خاندان کے ایک نوجوان22سالہ گل حسن کے قتل کے بعد اپنی ہی قوم کے لوگوں سے کوئی حمایت نہ ملنے سے دل برداشتہ اس خاندان نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب نئی برادری سے انہیں انصاف ملنے کی توقع ہے۔ 22سالہ گل حسن کے گھر والے بہتر مستقبل کی تلاش میں جنوری میں اپنے آبائی گاؤں بدرکھا سے نوادہ گاؤں منتقل ہو گئے تھے۔گل حسن کے بھائی34سالہ دلشاد نے بتایا کہ چونکہ یہ ایک مسلم اکثریت والا گاؤں تھا اور یہاں ہمارے کئی رشتے دار تھے ۔

نیز دہلی سے قریب تھا اس لیے ہم نے یہاں ایک مکان خریدا اور کپڑے کی دکان چلانے کے لیے ایک دکان کرایے پر لے لی۔22جولائی کو گل حسن اس دکان کی چھت پر مردہ پایا گیا۔گھر والوں کا کہنا تھا کہ تجارتی رقابت میںاس کا قتل ہوا تھا کیونکہ اس کے جسم پر زخموں کے نشان تھے۔گل حسن کے سب سے بڑے بھائی نوشاد نے بتایا کہ ہم نے پولس سے کہا کہ گل حسن کا منصوبہ بند قتل ہوا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ گل حسن نے خود کشی کی ہے۔ دلشاد نے کہا کہ گاؤں والوں یا ان کے رشتہ داروں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔11جولائی کو ہمار ے چچا زاد بھائی رضی الدین کی مقامی رہائشیوں سے مار پیٹ ہو گئی تھی۔

لیکن اس کی کوئی کوئی ایف آئی آر نہیں ہوئی تھی۔ چانکہ ہم نے رضی الدین کی حمایت کی تھی اس لیے مقامی لوگ ہم سے نفرت کرنے لگے۔ دلشاد نے کہا کہ ہماری برادری نے ہمارا حقہ پانی بند کر دیاجس کے باعث ہم نے اپنے آبائی گاؤں واپس آنے اور ہندو مذہب قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ہم انصاف کے لیے لڑائی لڑتے رہیں گے

۔ دلشاد نے کہا کہ ہم نے یووا ہندو واہنی بھارت سے رابطہ کیا۔ میرے والد اختر نے تحریر دی کہ ان کے خاندان کے20افرا د ،جن میں چار بھائی اور ان کے بیوی بچے شامل ہیں،ہندو مذہب اختیار کرنے تیار ہیں۔ لیکن میرے سب سے چھوٹے بھائی کی بیوی اور میرے بڑے بھائی ذاکر اورا س کے بیوی بچوں نے تبدیلی مذہب سے انکار کر دیا ۔لیکن ہم میں سے13نے، جن میں ہمارے والدین بھی شامل ہیں، ہندو مذہب قبول کر لیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Baghpat muslim family converts to hinduism in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment