ممتاز قانون داں مجید میمن اجودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کی تجویز سے متفق لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

نئی دہلی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے راجیہ سبھا کے رکن اور ممتازقانون داں مجید میمن نے بابری مسجد کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشورہ تو اچھا ہے لیکن انصاف ہونا بھی لازمی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے تقریباً 25 برس کا وقفہ گذر جانے کے باوجودآج بات پھر وہی پہنچ گئی جہاں 25 برس پہلے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فساد میں بہت سی جانیں گئیں۔ جنہیں آج تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ بھی انصاف ہونا ضروری ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہر نے بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت کے دوران فریقین کو اس مسئلے کا مل بیٹھ کر دوستانہ اور پرامن حل نکالنے کا مشورہ دیتے ہوئے فریقین کے درمیان اپنی ثالثی کی پیش کش بھی کی ہے۔ مسٹر مجید میمن نے کہا کہ اس طرح کے مشور ے بارہا آتے رہے ہیں، لیکن ایسے کسی مشورے پر عمل در آمد نہیں ہوسکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سچائی اور انصاف کے راستے میں اکثریت اور اقلیت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے اور جہاں کوئی حق تلفی ہوتی ہے قانون کو اس میں غیر جانبدارانہ طریقہ پر انصاف کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے کئی بڑے لیڈروں کے نام بابری مسجد انہدام کے معاملے میں عدالت میں آئے تھے، جنہیں بابری مسجد کے فوجداری معاملے سے ڈسچارج کردیا تھا لیکن عدالت نے اس معاملے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ان لیڈروں کے خلاف پھر سے کارروائی کرنے کی تاکید کی تھی۔ مسٹر میمن نے کہا کہ بابری مسجد انہدام ایک ایسا ”فوجداری گناہ“ تھا جس کے نتیجے میں 1992 میں بہت خون خرابہ ہوا تھا اور بہت سی جانیں ضائع ہوئی تھیں اس لئے انصاف کا تقاضہ ہے کہ عدالت کو اس معاملے میں غیر جانبدارنہ انصاف کرنا چاہئے۔
اسی کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کا کوئی ایسا حل نکالا جانا چاہئے جس سے ملک میں نہ نفرت بڑھے اور ملک کا ماحول خراب نہ ہو۔ اس لئے اس فوجداری معاملے کو قانونی انجام تک پہنچانا لازمی ہے۔ مسٹر میمن نے کہا کہ مسلمانوں نے بار بار کہا ہے کہ وہ رام مندر کے خلاف نہیں ہیں لیکن کیا اس ملک میں عدالت کی نظر میں ایسا ممکن ہے کہ کوئی ایک فریق یا گروپ اپنی طاقت کے بل پر ایک عبادت گاہ کو مسمار کرکے دوسری عبادت گاہ کی تعمیر کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی نئی نسل تعلیم، روزگار اور حفظان صحت کی گارنٹی چاہتی ہے اور انہیں مندر اور مسجد کے معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی ناجائز عمل کو طاقت کے زیر اثر آکر اسے جائز ہونے کا جامہ پہنادیا جائے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Babri masjid issue ncp leader majeed memon welcomes scs observation in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply