بابری مسجد مسماری مقدمہ میں اڈوانی۔ جوشی اور اوما ہر روز شخصی حاضری سے مستثنیٰ

لکھنؤ: خصوصی سی بی آئی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس میں سازش کے الزامات کا سامنا کرنے والے بی جے پی لیڈروں ایل کے اڈوانی، ایم ایم جوشی اور اوما بھارتی کو ہر روز ہونے والی سماعت میں ذاتی حاضری سے مستثنیٰ کردیا ہے۔ سی بی آئی خصوصی جج سریندر کمار یادو نے سینئر بی جے پی لیڈروں کے ذاتی طور پر پیشی سے چھوٹ کو قبول کرلیا ہے۔ 30 مئی کو عدالت نے ان لوگوں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کئے تھے کیونکہ ان لوگوں نے 1992 میں ہجوم کو بابری مسجد مسمار کرنے کے لیے بھڑکایاتھا۔
فاسٹ ٹریک عدالت بابری مسجد کے انہدام کے تعلق سے دو علاحدہ علاحدہ کیسوں کی سماعت کر رہی ہے۔ تین دیگر جن کے خلاف سازش کے الزامات طے کیے گئے ہیں ان میں بی جے پی کے ونے کٹیہار، وشوہندو پریشد کے وشنو ہری ڈالمیا اور سادھوی ریتھمبرا شامل ہیں۔ اڈوانی اور محترمہ بھارتی ان لوگوں میں شامل ہیں جو سماعت کے لیے عدالت میں ذاتی طور سے موجود تھے۔ سی بی آئی عدالت کی ہدایت اہمیت کی حاصل ہے کیونکہ محترمہ بھارتی این ڈی اے حکومت میں وزیر ہیں جب کہ مسٹر اڈوانی اور مسٹر جوشی بی جے پی کے سینئر لیڈر ہیں۔
دونوں کیسوں کے ملزمان پر مجرمانہ سازش اور تعزیرات ہند کی کئی دیگر دفعات کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔ بی جے پی کے تین سینئر لیڈروں اور دیگر کو 50-50 ہزار کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دے دی گئی ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد ان لیڈروں کے نام ایف آئی آر میں درج ہوئے تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Babri case advani joshi exempt from daily appearance in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply