اذان نماز کے لیے لازمی ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر اذان کے لیے ضروری نہیں: احمد پٹیل

نئی دہلی (یو این آئی): کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نے مساجد سے لاؤڈاسپیکر پر فجر کی اذان کے حوالے سے گلوکار سونو نگم کے اعتراض کی حمایت کی ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر مسٹر پٹیل نے آج ٹویٹ کر کے کہا کہ اذان نماز کا لازمی جزو ضرور ہے لیکن جدید تکنالوجی کے اس دور میں لاوڈاسپیکر کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں موذن دن میں پانچ بار اذان دیتا ہے اور کئی ممالک میں نصف شب میں تہجد کی ازان بھی دی جاتی ہے۔
اور یہ تمام اذانیں لاؤڈ اسپیکر سے ہی دی جا تی ہیں تاکہ لوگوں جماعت سے نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جانے اور اذان کے کلمات دوہرانے کا ثواب حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔مسٹر نگم نے کل ٹویٹ کرکے اذان کی وجہ سے ان کی نیند میں خلل کے بارے میں اعتراض کیا تھا۔ اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع ہوگیا تھا اور آج اخبارات میں بھی اس سلسلے میں خبریں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔
مسٹر پٹیل کے ٹویٹ سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کانگریس پارٹی بھی لاؤڈاسپیکر کے ذریعے مساجد سے ہونے والی اذان سے لوگوں کو ہو نے والی تکلیف کے سلسلے میں فکر مند ہے۔ مسٹر نگم نے ٹوئیٹ میں کہا تھا”خدا سب پر مہربانی کرے ، میں مسلمان نہیں ہوں اور صبح میری نیند اذان سے کھلی، ملک میں کب تک مذہبی رسم و رواج کو زبردستیڈھونا پڑے گا“۔
اس کے علاوہ تین دیگر ٹویٹوں میں بھی مسٹرنگم نے خاصااعتراض کیا تھا۔ آخری ٹویٹس میں تو گلوکار نے اسے جرم تک بتادیا۔ سوشل میڈیا پر مسٹر نگم کے اس ٹویٹ کے بعد کئی لوگوں نے لاوڈسپیکر کے ذریعے جاگرن اور وعظ پر بھی اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے شور سے محلے میں امتحان کے دوران طالب علم بھی متاثر ہوتے ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Azaan an essential part of namaz not loudspeakers says congress leader in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply