اجودھیا تنازعہ: پائیدار و قابل قبول حل پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی مصالحتی پینل کو 15اگست تک مہلت

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے تین رکنی مصالحتی پینیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسے سیاسی نوعیت سے نہایت حساس اجودھیا میں رام جنم بھومی بابری مسجد اراضی تنازعہ کے پائیدار اور قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے 15اگست تک مہلت دے دی۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبدے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسڑٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر پر مشتمل پانچ ججی بنچ کو ایک روا قبل ہی داخل کی گئی پینل کی سربمہر رپورٹ پر سماعت کرنا تھی۔
مختصر کارروائی کے بعد مسلم فریقوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ مصالحت کے تمام امکانات کا خیر مقدم کریں گے۔لیکن نرموہی اکھاڑہ نے شکوہکیا کہ فریقین میں کوئی باہمی تبادلہ خیال نہیں ہوا۔

تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ کمیٹی کے کام کرنے کے انداز سے عدالت مطمئن ہے۔ یہ مصالحتی کمیٹی جوسپریم کورٹ کے سابق جج فاخر محمد ابراہیم خلیف اللہ ،روحانی گورو شری شری روی شنکر اور س ثالثی میں شہرت پانے والے سینیئر ایڈوکیٹ سری رام پنچو پر مشتمل ہے سپریم کورٹ نے 8مارچ کو تشکیل دی تھی۔

واضح ہو کہ اس مصالحتی کمیٹی نے ثالثی کے عمل پر اپنی رپورٹ 7مئی کو سپریم کورٹ میں داخل کر دی تھی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ayodhya case live sc gives mediation panel time till august 15 to come up with amicable lasting solution in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.