اورنگ آباد اسلحہ برآمدگی کیس میں ابوجندل سمیت 12کو مجرم قرار دیا گیا

ممبئی:ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے آج یہاں 26/11ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ملزم و لشکر طیبہ نامی تنظیم سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے ملزم سیدذبیح الدین عرف ابو جندال سمیت مجموعی طور پر 12ملزمین کو ریاست مہاراشٹر کے اورنگ آباد2006 اسلحہ برآمدگی کیس میں دہشت گردانہ معاملہ میں مجرم قرار دیا جبکہ 8ملزمین کو باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔خصوصی عدالت نے ملزمین کی سزاؤں کا تعین نہیں کیا ہے اور مدعا علیہان و مدعی کے دلائل سننے کے بعد عدالت قصوروار ٹھہرائے گئے مجرمین کی سزاؤں کی نوعیت طے کرے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ گجرات فرقہ وارانہ فساد کے بعد 2006میں ملزمین نے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا کے قتل کی سازش رچی تھی۔کل 22مسلم نوجوانوں کی اس معاملہ میں گرفتاری عمل میں آئی تھی اور صرف 20ملزمین کے خلاف ہی فی الوقت مقدمہ چلایا گیا تھا ،جبکہ 2ملزمین کے مقدمہ کو دیگر ملزمین کو مقدمہ سے علیٰحدہ کر دیا گیا ہے۔عدالت نے جن 12 کو قصو مجرم قرار دیاہے ان میں ابو جندال کے علاوہ محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجید انصاری، افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف، سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم ، فیصل عطاالرحمن شیخ شامل ہیں۔
خصوصی جج ایس این انیکر نے جن ملزمین کو نا کافی شواہد کی بنیاد پربا عزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا ہے اس میں اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کی تنظیم آئی آر ایف کے سابق ملازم فیروز دیشمکھ کے علاوہ سید زبیر سید احمد قادری، عبدالعظیم عبدالجمیل شیخ، ریاض احمد محمد رمضان ،خطیب عمران عقیل احمد، شیخ وقار محمد نثار، محمد صمد شمشیر خان پٹھان اور محمد عقیل محمد اسماعیل مومن، شامل ہیں۔عدالت نے وعدہ معاف گواہ بنائے گئے ملزم سید مصطفیٰ اورمفرور ملزم شیخ نعیم کا مقدمہ دیگر ملزمین کے مقدمہ سے علیٰحدہ کر دیا ہے۔
ان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علما کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے عدالت کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مجرمین کو جن الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا ہے ان الزامات کی تصدیق کے لئے گواہان نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا تھا جس سے یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ مدعا علیہان مذکورہلیڈران کی قتل کی سازش شامل تھے،لہٰذا خصوصی عدالت کس طرح سے انہیں ان الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرا سکتی ہے جن الزامات کو ثابت کرنے کے لئے عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا گیا ہو۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیت علما ان تمام معاملات کو لے کر اور قصور وار ٹھہرائے گئے مجرمین کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرے گی۔اس معاملے میں20ملزمان کے خلاف 9 جنوری2013کو سولہ نکات پر مشتمل فرد جرم عائد کی گئیتھی۔ جس کے مطابق ملزموں نے 1996 سے 2006کے درمیان ہندوستان اور بیرون ہند دہشت گردی کی سازش رچی تھی۔ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعہ 10(a) اور 18، 20، 38،39، اور مکوکا قانون کی دفعہ 3(4) و آرمس ایکٹ دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
اے ٹی ایس نے ملزمین کے قبضہ سے ایک درجن AK47 رائفل ، کارآمدکارتوس، آر ڈ ی ایکس خلد آباد کے قریب واقع گرونیشور مندر، انکئی کی پہاڑی کے دامن میں واقع ریلوے لائن کے نیچے سے اور مالیگاؤں میں واقع بجلی کے سازو سامان کی ایک دکان سے ضبط کیئے جانے کا دعوی کیا تھا۔اس معاملے میں استغاثہ نے100سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہمدعا علیہان نے اپنے دفاع میں نے61گواہوں کو عدالت میں ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے طلب کرایا تھا۔جس میں پولس افسران کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحر ف ہوگئے تھے جس کی وجہ سے اے ٹی ایس کو ہزیمت بھی اٹھانی پڑی تھی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Aurangabad arms haul case mcoca court convicts 12 including abu jundal in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply