فرقہ وارانہ فساد میں نوجوان بیٹے کی جان سے ہاتھ دھونے والے آسنسول کے امام کی امن کی اپیل

آسنسول:مغربی بنگال کے شہر آسنسول کی ایک مسجد کے امام امداد الرشیدی نے ،جن کا 16سالہ بیٹا سبط اللہ فرقہ وارانہ فساد میں جاں بحق ہو گیا،ایک تعزیتی جلسہ میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ریاست کے مغربی بردوان ضلع کے ایک قصبہ میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے کی موت پر کوئی انتقامی کارروائی کی گئی تو وہ مسجد اور شہر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
انہوں نے رقت بھرے لہجہ میں کہا کہ خدا کے واسطے امن قائم رکھیں۔ میں امن چاہتا ہوں۔ میرے بچے کی جان لے لی گئی۔اور میں نہیں چاہتا کہا کہ اور کسی ماں کا لال اور باپ کا لخت جگر مارا جائے۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی مکان جلے۔ قابل غور ہے کہ سبط اللہ رشیدی جس نے اسی سال دسویں کلاس کا امتحان دیا تھا منگل کو آسنسول میں رام نومی جلوس کے بعد رانی گنج میں تشدد ہونے کے باعث لاپتہ ہو گیا تھا۔
بدھ کی رات میں اس کی لاش ملی۔ایسا شبہ کیا جاتا ہے کہ اسے پیٹ پیٹ کر قتل کیاگیا تھا۔ امام ہٰذا نے اپنے لخت جگر کی تدفین کے بعد ملاقات کے لیے آنے والے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ مجھے اپنے ذاتی نقصان کے صدمہ سے ابھرنے کی ضرورت ہے۔
آسنسول کے لوگ ایسے نہیں ہیں ۔یہ کوئی سازش ہے۔واضح رہے کہ پرولیہ اور 24پرگنہ سے ایک ایک لاش ملنے سے مغربی بنگالمیں اتوار سے جاری تشدد میں ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔

Title: asansol imam whose son died in ram navami clashes asks for peace | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply