جمیعت علمائے ہند نے اورنگ آباد اسلحہ برآمدگی کیس کے فیصلہ کو ادھوراا قرار دیا،اونچی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا:ارشد مدنی

نئی دہلی:اورنگ آباد اسلحہ برآمدگی مقدمہ میں ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کی طرف سے 20 مسلم نوجوانوں میں سے 8کو باعزت بری کرنے اور 12 نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں او راسلحہ قانون کے تحت مجرم قراردینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمیعت العلما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ادھورا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
تاہم انہوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ 20ملزمان پر سے نہ صرف مکوکا ہٹا لیا گیا بلکہ ان میں سے 8کوناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر با عزت بری بھی کر دیا گیا۔ انہوں نے اسے جمعیت علما ہند کی کامیابی قرار دیااوردعویٰ کیا کہ عدالت نے جن12ملزمان کو قصور وار قرار دیا ہے انکے خلاف بھی استغاثہ ایسا کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ یہ ملزمان نریندرمودی یا توگڑیا کے خلاف کسی سازش میں ملوث تھے یاکہ انکا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ مدنی نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ نچلی عدالتوں نے جن معاملات میں ملزمان کوپھانسی تک کی سزائیں دے دیں تھیں ان معاملات میں وہ سپریم کورٹ سے بری کر دئے گئے اس لئے امید ہے کہ ماضی کی طرح اس معاملہ میں بھی اعلیٰ عدالت سے انصاف ملے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے قصور لوگوں کو اس وقت تک مکمل انصاف نہیں مل سکتا جب تک کہ انہیں معاوضہ ادا نہ کیا جائے اور جھوٹے معاملات میں پ پھنسانے والے افسران کی گرفت نہ کی جائے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملے میں ایک پٹیشن بھی زیر سماعت ہے جس پر فیصلہ کا انتظار ہے۔واضح رہے کہ گجرات فرقہ وارانہ فساد ات کے بعد 2006میں ٰ نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا کے قتل کی سازش ر چنے اور گجرات فسادات کا انتقام لینے کے الزام میں 22مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جن میں سے 20ملزمان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور سلطانی گواہ ملزم سید مصطفیٰ اورمفرور ملزم شیخ نعیم کا مقدمہ دیگر ملزمین کے مقدمہ سے علیحدہ کر دیاتھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Arshad will challenge aurangabad arms haul case judgement in high court in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply