روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ قانونی دلائل پر مبنی ہو نا چاہیے:سپریم کورٹ، سماعت 13 اکتوبر تک موخر

نئی دہلی:(یو این آئی) سپریم کورٹ نے آج کہاکہ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کے معاملے میں دلائل قانونی نکات پر مبنی ہونے چاہئیں نہ کہ جذباتی پہلووں پر۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے روہنگیا پناہ گزین سلیم اللہ اور دیگر کی عرضی کی اگلی سماعت کے لئے تیرہ اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دلائل جذباتی پہلووں پر نہیں بلکہ قانونی نکات پر مشتمل ہونے چاہئیں۔
عدالت نے کہا کہ انسانی پہلو اور انسانیت کے تئیں تشویش کے ساتھ ساتھ باہمی احترام کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔عدالت نے مرکزی حکومت اورروہنگیا عرضی گذاروں کو اس کی مدد کیلئے تمام دستاویزات اور بین الاقوامی معاہدوں کی تفصیلات تیار کرنے کا حکم بھی دیا۔
روہنگیا عرضی گذاروں کی طرف سے سینئر وکیل فالی ایس نریمن نے دلیل دی کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پناہ گزین کے تئیں پہلے سے مثبت رویہ اپنانے والی این ڈی اے حکومت نے روہنگیا معاملے میں اپنی پالیسی کیسے تبدیل کردی ہے۔ انہوں نے حالانکہ مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’میں بنیادی طورپر برما کا پناہ گزین ہوں۔ میں برطانوی برما سے برطانوی ہندوستان میں آیا تھا۔‘

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Arguments on rohingya muslims must be on law points not on emotional aspects supreme court in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply