سپریم کورٹ مجرم قرار دیے گئے ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کے انتخابات لڑنے پر تا حیات پابندی کے حق میں

نئی دہلی: جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس نوین سنہا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اشونی اپادھیائے کی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ وہ ممبران پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کی سماعت چھ ماہ کے اندر مکمل کئے جانے کے حق میں ہے۔ مسٹر اشونی اپادھیائے نے عدالت عظمیٰ سے داغی ممبران پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی، انتظامیہ اور عدلیہ کے اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات کا جلد تصفیہ کرنے اور ایک بار مجرم قرار دیے جانے والوںکے الیکشن لڑنے پرتاحیات پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی 12 ستمبر کو پھر سماعت کرے گا۔ ایک عرضی گزار پرشانت کمار امراو¿ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوکر سپریم کورٹ بار ایسو ایشن کے صدر روپندر سنکھ سوری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ایسی ہدایت نہ دیئے جانے کی صورت میں جنسی استحصال اور قتل کی دھمکی کے مجرم ڈیرہ سچا سودا کے بابا گرمیت رام رحیم بھی جیل میں بند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی پارٹی تشکیل دے سکتے ہیں اور سیاسی پارٹی کے سربراہ بن کر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ عدالت نے فوجداری مقدمات میں سزا یافتہ لیڈروں کے زندگی بھر الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست پر الیکشن کمیشن کے غیر واضح موقف اختیار کرنے کے لئے اسے گزشتہ 12 جولائی کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔ بنچ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ وہ اس عرضی کی حمایت کرتا ہے لیکن معاملے کی سماعت کے دوران، کمیشن یہ کہہ رہا ہے کہ فوجداری مقدمات میں قصوروار لیڈروں کے الیکشن لڑنے پر وہ تا حیات پابندی کے حق میں نہیں ہے۔ اس قسم کی تضاد بیانی چہ معنی دارد؟ عدالت نے کہا تھا کہ ملک کے ایک شہری نے عرضی داخل کرکے کہا ہے کہ ایسے لوگوں پر تاحیات پابندی لگانی چاہئے، کمیشن اس کی حمایت کرتا ہے یا مخالفت؟ اسے اس کا جواب ہاں یا نہ میں دینا ہوگا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Apex court weighs ban on convicted mps mlas from contesting polls in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply