زندگی میں کامیابی پانے کے لئے عزم و استقلال اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشتاق احمد نوری

نئی دہلی:مشہور افسانہ نگار اور بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کہا کہ کسی بھی کام کر نے کے لئے عزم اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اگرآپ کے اندر یہ عزم اور حوصلہ ہے تو آپ کی راہ میں رکاوٹ حائل نہیں ہوگی۔ یہ بات انہوں نے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک پروگرام میں کہی۔ ’ایک شام مشتاق احمد نوری کے نام ‘سے منعقدہ تقریب میں، جس کا اہتمام آل انڈیا تنظیم علمائےَ حق نے کیا تھا، انہوں نے کہاکہ اگر آپ کے پاس مطمح نظرہے، بصارت ہے تو آپ تعمیری کام کرسکتے ہیں اور نہ صرف اپنے لئے بلکہ ملک و ملت کے لئے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ ورنہ آپ کتنے بڑے عہدے پر ہی کیوں نہ پہنچ جائیں آپ اپنی قوم کے لئے مفید ثابت نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ میں جب پہلی بار اردو اکیڈمی کا سکریٹری بنا تھا تو اس وقت اکیڈمی کا گرانٹ دس لاکھ روپے تھی جس کومیں نے بڑھا کر 25لاکھ کروایا تھا اور دوبارہ میں سکریٹری بناتھا وہ اس وقت تک گرانٹ 25 لاکھ سے 40لاکھ تک پہنچی تھی۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت اردو اکیڈمی کی گرانٹ دو کروڑ 40 لاکھ روپے ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ کسی بھی بجٹ میں اضافہ کی گنجائش دس فیصد تک ہوتی ہے لیکن یہ پانچ گنا زیادہ اضافہ ہے اور یہ اس لئے ممکن ہوپایا کیوں کہ اپنے کام اور اپنے پروگرام سے ہم مالیاتی محکمہ کو مطمئن (کنوینس) کرنے میں کامیاب رہے۔انہوں نے کہاکہ اگر اپ اپنے کام کے تئیں ایماندار ہیں اور وہ نظر بھی آتا ہے تو آپ کی ہر سطح پر مددخود بخود ہوجاتی ہے۔ صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے کے قومی صدر مولانامحمد اعجاز عرفی قاسمی نے مشتاق احمد نوری کی افسانہ نگاری اور شاعری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی افسانہ نگاری میں سماجی مسائل کی عکاسی ہے اور عصری آگہی کی نئی روشنی بھی ،ان کا انداز تحریر اور زاویہ نظر اس قدر دل کش ہے کہ ان کے افسانے پڑھنے والے خود کو اپنا کردار محسوس کرتے ہیں اوران کے فکر وخیال کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوری صاحب نہ صرف ایک بہترین افسانہ نگار ہیں بلکہ ایک قابل منتظم بھی ہیں اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت بہار اردو اکیڈمی کی گوناگوں ترقی اور اس کی سرگرمیاں ہیں۔ مولانا عرفی نے کہاکہ یہ ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ ایک ادبی فعال شخصیت ہمارے درمیان ہے اور ہمیں ان کی شان میں تقریب کرنے کا موقع ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے کم عرصے میں اردو اکیڈمی کوبام عروج پر پہنچادیا۔ اس کے علاوہ وہ اعلی سرکاری عہدہ پر بھی رہ چکے ہیں اور اس دوران انہوں نے کبھی اپنے اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ یہ ان کی اردو زبان و ادب کے تئیں والہانہ لگاو¿ اور محبت کی دلیل ہے۔ سرکاری ادبی جریدہ ماہنامہ آج کل کے مدیر ڈاکٹر ابرار احمانی نے مشتاق احمد نوری سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ دہلی آئے ہوں اور بغیر ملاقات کئے چلے گئے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ عصرحاصر میں ان کے افسانے کو بہت شوق سے پڑھا جاتا ہے اور وہ اپنی کہانیوں میں ان چھوئے پہلوو¿ں کو نمایاں طور پر جگہ دیتے ہیں۔ صحافی عا بدا نور نے مشتاق احمد نوری کی سرگرمی اور بہار اردو اکیڈمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ بہار کے سابق بیوروکریٹ ہیں اور اپنی سروس کے دوران کبھی بھی انہوں نے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا اورنہ ہی آج تک ان پر کوئی داغ لگا۔ انہوں نے کہاکہ مشتاق احمدنوری صاحب نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کردیا ہے کہ مسلم افسر قوم کا کام نہیں کرتے۔ راشٹریہ سہارا کے سینئر صحافی عبدالقادر شمس نے کہاکہ مسٹر نوری نے بہار اردو اکیڈمی کو ہندوستان کا نمبر ایک اکیڈمی بنادیا ہے۔ آج بہارا ردو اکیڈمی کی سرگرمیوں کا تذکرہ اہل اردو کی زبان پر ہے۔ اس کے علاوہ خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر جسیم احمد، نایاب حسن اور دیگر حضرات شامل تھے۔اس پروگرام کا آغاز میں فکر انقلاب کے مدیر احسن مہتاب خان کی تلاوت قرآن ہوا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: An evening with mushtaq ahmad noori in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply