بی جے پی صدر امیت شاہ پہلی بار راجیہ سبھا کے لیے منتخب،سمرتی ایرانی اور کانگریس کے احمد پٹیل بھی جیتے

گاندھی نگر:گجرات میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے عزت کا سوال بنے راجیہ سبھا انتخابات میں آخر کار اس وقت جمہوریت کی جیت ہوئی جب الیکشن کمیشن نے کانگریس کے حق میں فیصلہ کر کے کانگریس امیدوار احمد پٹیل کو جیتنے کا موقع دے کر جہاں ایک طرف بی جے پی صدر امیت شاہ کی حکمت عملی پر پانی پھیر دیا وہیںوقار کی اس جنگ میں بی جے پی کو کلین سوئپ کرنے سے بھی روک دیا ۔ ایک ہی دن میں گجرا ت میں کانگریس کی یہ دوسری جیت ہے۔ اس سے قبل اس کو پہلی جیت اس وقت ملی تھی جب الیکشن کمیشن نے کانگریس کا اپنے ہی دو اراکین اسمبلی راگھو پٹی اور بابو بھائی کے ووٹ، جنہوں نے پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کراس ووٹنگ کر کے بی جے پی کو ووٹ دیے تھے ،منسوخ کرنے کا مطالبہ منظور کر لیا۔ گجرات کی جنگ میں بی جے پی کے تین امیدوار وں میں سے دو امت شاہ اور مرکزی وزیر سمرتی ایرانی جیتے جبکہ تیسرے بی جے پی امیدوار اور کانگریس چھوڑ کر پارٹی میں شامل ہونے والے باغی لیڈر شنکرسنگھ واگھیلا کے رشتہ دار بلونت سنگھ راجپوت کو نزدیکی فرق سے ہار کا منہ دیکھنا پڑ ۔ احمد پٹیل مسلسل پانچویں بار راجیہ سبھا میں پہنچے ہیں ۔مسٹر شاہ اور محترمہ ایرانی کو 46-46 اور مسٹر راجپوت کو صرف 38 ووٹ ملے۔ مسٹر احمد پٹیل کو 44 ووٹ ملے اور جیت کے لئے کم سے کم اتنے ہی ووٹوں کی ضرورت تھی۔ یہ تعداد حالانکہ کانگریس کے دعووں سے کہیں کم ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلی وجے روپانی نے کہا کہ کمیشن کا دوووٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ درست نہیں ہے۔
اسے قانونی طور چیلنج کیا جائے گا۔ واقعی تیسری نشست پر بی جے پی ڈیڑھ ووٹ سے جیت سکتی تھی مگر اس کی وجہ سے نصف ووٹ سے ہار گئی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کا اثر ہوگا اور کانگریس اور بکھرے گی اور اس کی کشتی ڈوب جائے گی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جیسے اپنے بیٹے راہل گاندھی کے موہ میں پارٹی کو ڈبویا ہے ویسے ہی احمد پٹیل کو الیکشن جتانے کے چکر میں گجرات میں پارٹی ڈوب گئی ہے۔ اس کی کشتی میں اب ایدا شگاف پڑ گیا ہے کہ اسے ڈوبنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جیت سے حوصلہ پاکر کانگریس کے مسٹر پٹیل نے کہا سچ کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس سال کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس کی جیت ہوگی۔ دیر رات کانگریس کے احمد آباد میں واقع ہیڈ کوارٹر پر جشن کا ماحول تھا اور پٹاخے پھوٹ رہے تھے۔
اس کے نتیجے کے بعد دوبارہ ریاست کی 11 راجیہ سبھا سیٹوں میں سے دو پر کانگریس کا قبضہ ہے۔ باقی نو بی جے پی کے کھاتے میں ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے سلسلے میں گہما گہمی کے درمیان بی جے پی کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے اس کے ساتھ صلح کا برتاؤ کرنے والے باغی پاٹی دار ممبر اسمبلی نلنکوٹڈیا نے بھی دیر رات ویڈیو جاری کر کے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے واگھیلا گروپ کے دو رکن اسمبلی راگھوجی پٹیل اور بھولا گوہل کے ووٹوں کو اس بنیاد پر منسوخ کر دیا کہ انہوں نے ووٹنگ کے بعد اسے بی جے پی کے امیدواروں کو دکھایا۔ جس کے بعد مقررہ وقت شام پانچ بجے کی جگہ رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے ووٹوں کی گنتی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تاہم یہ مزید تاخیر سے شروع ہو ئی ۔کمیشن نے دیر رات جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے ووٹنگ سے متعلق شکایت کا ویڈیو دیکھا ہے اور اس سے واضح ہے کہ دونوں نے ووٹنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے ان کے ووٹ منسوخ کر دیے جانے چاہئیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر بھرت سنگھ سولنکی نے کہا کہ کمیشن نے جمہوریت میں لوگوں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ ادھر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلی نتن پٹیل نے کمیشن کو مذکورہ ویڈیو عام کرنے کا چیلنج کرتے ہوئے اس فیصلے کو بڑے ادارے کی ایک غلطی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے شکست سے بچنے کے لئے پہلے سے ہی کی گئی سازش کے تحت یہ شکایت کی تھی اور کمیشن پر اپنے مرکزی رہنماؤں کے ذریعے دباؤ بنایا۔
بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے عزت کا سوال بنے اس انتخاب میں مذکورہ چار ہی امیدوار تھے اور یہ ریاست میں 1996 کے بعد پہلی راجیہ سبھا کی ووٹنگ تھی۔ ادھر کانگریس اور بی جے پی نے دو ووٹوں کو منسوخ کرنے کے معاملے میں زبردست الزام تراشی کے درمیان تین تین بار الیکشن کمیشن کے پاس اپنی طرف اور متعلقہ دستاویزات رکھے تھے۔ صبح نو بجے شروع ہونے والی ووٹنگ مقررہ وقت چار بجے سے قریب دو گھنٹے پہلے ہی تمام 176 اراکین اسمبلی کے ووٹ ڈالنے کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی۔نئی دہلی میں کانگریس کے ایک اور وفد کے ساتھ کمیشن سے ملنے والے سابق وزیر خزانہ اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے کہا تھا کہ کہ کمیشن کو 11 جون 2016 کو ہریانہ میں ایسے ہی معاملے کی طرز پر دونوں ووٹوں کو منسوخ کرنا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجےوالا نے کہا تھا کہ کمیشن کے پاس ہی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا آخری اختیار ہے۔ ریٹرننگ آفیسر کے پاس نہیں۔ یہ انتخابات بی جے پی کی محترمہ اسمرتی ایرانی (مرکزی وزیر) اور دلیپ پانڈیا اور کانگریس کے احمد پٹیل (محترمہ سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری) کی مدت کی تکمیل (18 اگست تک) کے قریب پہنچنے کی وجہ سے ہوئے تھے۔ فی الحال بی جے پی کے 122 (ایک باغی نلنکوٹڈیا سمیت)، کانگریس کے 51 (واگھیلا اور ان کے دھڑے کے چھ دیگر سمیت)، این سی پی کے دو اور جے ڈی یو کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ دو ووٹ منسوخ ہونے کے بعد بدلے حالات میں پہلی ترجیحی 44 ووٹ ملنے پر کسی بھی امیدوار کی جیت یقینی تھی۔
آج ووٹنگ کے دوران کانگریس کی جانب سے 44 ممبران اسمبلی کے ساتھ بنگلور میں واقع ایک ممبر اسمبلی سانند کے کرم سنگھ پٹیل سمیت کم از کم آٹھ اور این سی پی کی جانب سے ایککراس ووٹنگ ہوئی ہے۔ این سی پی کے دو میں سے ایک ممبر اسمبلی نے بھی بی جے پی کے حق میں ووٹ دیکر کراس ووٹنگ کی ہے۔ جے ڈی یو کے ممبر اسمبلی نے بھی کانگریس کو ووٹ دینے کی بات کہی ہے۔ وزیر اعلیٰ وجے روپانی سمیت بی جے پی کے تمام رہنماؤں نے تینوں سیٹیں جیتنے کا اعتماد کا اظہار کیا تھا بعد میں انہوں نے کہا کہ تیسری پارٹی امیدوار مسٹر واگھیلا نے بھی کانگریس کے خلاف ووٹ کرنے کی بات قبول کرتے ہوئے ایسا ہی امکان ظاہر کیا تھا ۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Amit shah smriti irani win gujarat rajya sabha polls ahmed patel gets in after ec gets two out in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply