پہلو خان کو گؤ رکشکوں نے نہیں مارا، پولس نے تحقیقات بند کر کے کیس داخل دفتر کر دیا؟

جے پور: راجستھان پولس نے الور کے ایک دودھ فروش پہلو خان کی ہجومی تشدد میں ہلاکت کے حوالے سے تحقیقات مبینہ طور پربند کر دی۔واضح رہے کہ خان کو تشدد پر آمادہ ایک مشتعل بھیڑ نے یہ الزام لگاتے ہوئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ وہ گایوں کی اسمگلنگ کر رہا ہے۔اس کی ہجومی تشدد میں ہلاکت کا ویڈیو سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ وائرل ہوا تھا کہ ملک گیر پیمانے پر اس پر بحث چھڑ گئی تھی۔
پہلو خان نے نزعی بیان میں اوم یادو، حکم چند یادو، سدھیر یادو، جگمل یادو ، نوین شرما اور راہل سینی کو نامزد کیا تھا۔ لیکن رتھ گؤ شالہ کے عملہ اور فون کی ریکارڈنگ کے مطابق جس وقت یہ واردات ہوئی تو نامزد چھ کے چھ افراد گؤ شالہ میں موجود تھے اور گؤ شالہ جائے واردات سے چارکلومیٹردور ہے۔یہ رتھ گؤ شالہ73سالہ جگمل یادو کی زیر سرپرستی چل رہی ہے۔
ان چھ ملزموں میں سے تین کا تعلق دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے ہے ۔ ایک انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق حکام پر زبردست دباؤ تھا کہ گؤ رکشکوں پر آنچ نہیں آنی چاہئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Alwar lynching probe closed against hindu right wing men named by pehlu khan in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply