آئندہ عام انتخابات سے قبل ہر پارٹی ترپ کا پتہ روک کر چال چل رہی ہے

سید اجمل حسین

چار غیر بی جے پی و غیر کانگریسی وزراءاعلیٰ کا دہلی میں لیفٹننٹ گورنر کی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ کیجری وال کے دھرنے کے دوران ان کی حمایت میںاٹھ کھڑا ہونا ،بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اچانک ہی جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے ریاستی حکومت کو دھڑام سے منھ کے بل گرادینا اور اس سے چند ہفتے قبل کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھرنے والی بی جے پی کو21ویں ریاست میں حکومت سازی سے روکنے کے لیے جنتا دل سیکولر( جے ڈی ایس) سے بعد از انتخاب سمجھوتہ کر کے ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل دینا 2019کے عام انتخابات سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے و ہ واقعات ہیں جوپارلیمانی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ابھی تک تو بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل پارٹیاں ہی بی جے پی سے ناطہ توڑ کر حکومت سے باہر ہرتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے کسی علاقائی پارٹی سے ناطہ توڑا ہے۔ اس اقدام کو اگر بی جے پی کا 2019کے عام انتخابات سے قبل لگایا گیا چھکاکہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔کیونکہ یہ بی جے پی کی اس حکمت عملی کا ایک جزو ہو سکتا ہے جو پارٹی کے لیے چانکیہ کا درجہ رکھنے والے امیت شاہ نے حالات کو بھانپ کر وضع کی ہے۔ کیونکہ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت میں مزید شامل رہ کر مرکز میں دوبارہ اقتدا رمیں آنے کے اس کے امکانات پر کاری ضرب لگ سکتی تھی۔ اور اسی چال کو اگر 2019 کے عام انتخابات میں دکھائے جانے والے تیور کی جھلک سمجھ لی جائے تو غلط نہ ہوگا ۔کیونکہ مسلمانوں کے حق میں کئی اقدامات کرنے کے باوجود بی جے پی کو یقین ہو چلا ہے کہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کا ووٹ اسے نہیں ملنے والا۔اسے ہندو ووٹوں کے سہارے کی سخت ضرورت ہے ۔

ایسے میں محض ایک ایسی ر یاست میں جو مسلم اکثریت والی ہو مخلوط حکومت میں شامل رہنا ہندو ووٹوں کو بھی خو د سے دور کرنے کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔جتنی دیر تک یہ ساتھ نبھانا تھا ایک حکمت عملی کے تحت نبھایا جاتا رہا ۔اور اب کم از کم یہ کہنے کا تو بی جے پی کو موقع مل گیا کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والی پارٹی نہیں ہے۔ کیونکہ عام انتخابات کے وقت اسے ایک مسلم اکثریت والی ریاست کی مسلم پارٹی سے نہ صرف پینگیں بڑھانے بلکہ حکومت تک میں شامل رہنے کا بھی جواب دینا مشکل ہوجاتا۔اور سینہ بہ سینہ کٹر ہندوو¿ں میں یہ پیغام پہنچنے لگتا کہ بی جے پی نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ہندوتو، رام مندر اورہندو راشٹر جیسے معاملات پس پشت ڈال دیے ہیں اور عام ووٹروں میں یہ پیغام جاتا کہ نوٹ بندش کے وقت جو یہ کہا گیا تھا کہ اس سے کشمیرمیں سرگرم انتہاپسندوں کی کمر ٹوٹ جائے گی اس پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ایسے حالات میں بی جے پی کو جواب دینا دوبھر ہوجاتا۔

چونکہ بی جے پی کو یہ بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ اب ترقی، ملازمتوں اور روزگار کے مواقع اوربیرون ملک بینکوں میں جمع کالا دھن واپس لاکر عوام میں تقسیم کر دینے جیسے وعدوں سے کام چلنے والا نہیں ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا ہونا تو دور کی بات اسے پورا کرنےکی جانب ذرہ برابر پیش رفت تک نہیں کی کی جاسکی۔ا ایسی صورت میں بی جے پی کو جس نئے ہتھیار کا استعمال کرنا ہے وہ ہندوتو ہی رہ جاتا ہے اور اس کے لیے اسے کوئی ایسا قدم اٹھانا پڑے گا جس سے جس ہندو ووٹ کی فی الحال صرف توقع کی جارہی ہے اسے پولرائزیشن کے ذریعہ بی جے پی کا یقینی ووٹ بنایا جا سکے۔اور اس کا آغاز اس نے جموں و کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر کے کر دیا تاکہ ملک گیر پیمانے پر یہ پیغام عام ہو سکے کہ بی جے پی ملک کی سلامتی کو داو¿ پر لگا کر اقتدار پر قابض رہنے سے بہتر حزب اختلاف کی بنچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دینا پسند کرتی ہے۔

اور یہ اقدام صرف جموں و کشمیر میں ہی اول آخر نہیں ہوگا بلکہ بی جے پی کا اگلا نشانہ بہار اور کئی دیگر وہ ریاستیں بھی ہوسکتی ہیں جہاں بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اب اگر دلتوں کو رام نہ کیا تو 2014جیسی کارکردگی دوہرانا تو کجا شاید سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھرنا بھی ممکن نہ ہو سکے۔اس کے لیے اسے اپنے اوپر لگے دلت مخالف ٹیگ کو اتارپھینکنا ہوگا۔چونکہ گجرات اسمبلی انتخابات میں بھی اقتدار بچانے کے لیے بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا تھااور بہار میں عظیم اتحاد کو اسے اقتدار سونپنا پڑا تھا۔اس لیے دلتوں کو منانا اور سینے سے لگانا ناگزیر ہوگیا ہے ۔اور ان دونوں ریاستوں میں دلتوں کا ووٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔کیونکہ شمالی و وسطی ہند کے اونچی ذات کے خاص طور پر برہمن ووٹروں میں یہ پیغام جا چکا ہے کہ کانگریس اب مسلمانوں کی للو چپو نہیں کرتی اور مسلمانوں کے مذہبی پروگراموں میں اس کا اقلیتی سیل ہی اسی طرح پیش پیش رہتا ہے جس طرح بی جے پی کا رہتا ہے۔

اس لیے برہمن ووٹروں کا اپنی جانب جھکاو¿ دیکھ کر اسے ہندوو¿ں میں اپنی پوزیشن اور مستحکم کرنے کے لیے دلتوں کی بھی ہمدردی سمیٹنا ہوگی۔اور کرناٹک سے سبق لے کرجنوبی ہند کی ہر ریاست میں علاقائی پارٹیوں سے انتخابی سمجھوتہ کرنے کے فارمولے پر بھی عمل کرے گی خواہ اس کے لیے کم سیٹوں پرہی اکتفا کیوں نہ کرنا پڑے۔ وسیے بھی وہ بھانپ چکی ہے کہ دلتوں کی طرح مسلم وو ٹ بھی پوری طرح سماج وادی و بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ ہے۔جسے اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین اور ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی یہاں تک کہ امام شاہی جامع مسجد احمد بخاری اور جمیعت علماءہند بھی کانگریس کے حق میں نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی خود کشی کرنے والے دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا اور اس کی ماں کو سیاسی آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔

بی جے پی کانگرس پر الزام لگارہی ہے کہ وہ ویمولا کنبہ کا بیجا استعمال کر رہی ہے وہیں کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی کے دور اقتدار میںدلتوں کی عزت و آبر اور جان و مال قطعاً محفوظ نہیں ہے اور دلتوں کی دل آزاری اور بے عزتی کرتے رہنے کی خواہش اس کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔لیکن دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجری وال کی قیادت میں ان کی کابینہ کا لیفٹننٹ گورنر کی رہائش گاہ پر دھرنا اور چار غیر کانگریسی و غیر بی جے پی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کا ان کی حمایت پر اٹھ کھڑا ہوناکہیں کانگریس اور بی جے پی دونو ں کی دلت سیاست پر بھاری نہ پڑ جائے۔کیونکہ ان چاروں وزراءاعلیٰ اور ان کی پارٹیوں کی شبیہہ بے داغ ہے۔ایسے میں اگر ان چاروں وزاراءکے اشتراک سے کوئی تیسرا محاذ تشکیل پا جاتا ہے تو بلا مبالغہ کانگریس قیادت والے یوپی اے اور بی جے پی قیادت والے این ڈی اے سے حلیفوں کا تیزی سے انخلاءعمل میں آنے لگے گا ۔جس سے جہاں بی جے پی کو بھاری قیمت چکانا پڑسکتی ہے وہیں کانگریس کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔اور تھرڈ فرنٹ کو ایسی طویل زندگی مل سکتی ہے جیسی کبھی مغربی بنگال میں بایاں محاذ کو ملی تھی۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: All political parties in india have trump card in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply