سقوط حیدرآباد کا جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے، زخم پھر ہرے ہوجائیں گے: مجلس تعمیر ملت کا مطالبہ

حیدرآباد :(یو این آئی)کل ہند مجلس تعمیر ملت کی سرکردگی میں ڈائریکٹر جنرل پولیس تلنگانہ انوراگ شرما کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا گیا اور بعض عناصر کی جانب سے 17ستمبر کو سقوط حیدرآباد(سابق ریاست حیدرآبادکو ہندیونین میں شامل کرنے کا دن) کا جشن منانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے نہ تو ایسا جشن منایا اور نہ اسکی اجازت دی۔ اب ایسا جشن منانے کی اجازت دینے سے امن و امان کی فضا متاثر ہوگی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا ملے گی اور دو مذہبی گروپوں کے درمیان نفرت بڑھے گی‘ اس لئے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی انتہا پسند گروپ کو عوامی طور پر ایسی تقریب منانے سے باز رکھا جائے اور اس کی اجازت نہ دی جائے۔
اس میمورنڈم ضیا? الدین نےئر نائب صدر تعمیر ملت‘ خواجہ آصف احمد نائب صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت‘ کیپٹین ایل پانڈو رنگا ریڈی صدر وائس آف تلنگانہ‘ ڈاکٹر کولوری چرنجیوی صدر حیدرآباد دکن ڈیموکریٹک الائینس‘ مولانا رحیم الدین انصاری صدر یونائٹیڈ مسلم فرنٹ‘ مولانا احمد الحسینی ‘ جناب محمد منیر الدین مختار سکریٹری مسلم یونائٹیڈ فرنٹ ‘ کے ایم عارف الدین صدر مجلس مشاورت تلنگانہ‘ رام داس‘ اور سیف الرحیم قریشی ڈپٹی جنرل سکریٹری تعمیر ملت نے دستخط کئے ہیں۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ سابق ریاست حیدرآباد کا انڈین یونین میں 26جنوری 1956کو الحاق عمل میں آیا۔ 13تا 17ستمبر 1948 کے دورن فوج کشی کے ذریعہ ہندوستان میں ریاست حیدرآباد کو شامل کیا گیا جس کے ذریعہ نظام کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا لیکن بعد میں ان کو راج پرمکھ کی حیثیت سے دستوری حیثیت دی گئی۔ وفد نے سوال کیا کہ کیا کسی متوفی دستوری سربراہ کے خلاف مظاہرے کرنا مناسب اور مہذب سماج کے شایان شان ہے ؟
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کو پولیس ایکشن کا نام دیا گیا۔ پولیس ایکشن میں مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔لوٹ مار ‘ آتشزنی ‘ اغوا اور عصمت دری کے واقعات پیش آئے۔ مساجد کو شہید کیا گیا‘ زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا مکانات اور اراضیات ضبط کرلی گئیں۔ پنڈت سندر لال کمیٹی نے نے بھی اس کی نشاندہی کی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 40,000لوگ مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ مملکت حیدرآباد کو تین علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ کے نواضلاع کا آندھرا میں انضمام عمل میں آیا۔ تلنگانہ میں اب بھی ایسے ہزاروں خاندان موجود ہیں جن کے ذہنوں میں پولیس ایکشن کی تلخ یادیں اب بھی تازہ ہیں ‘ اور ایسے میں اس قسم کا جشن منانا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ نظام حیدرآباد نے ریاست کی ترقی کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں- ہند چین جنگ اور ہند پاکستان جنگ کے دوران انہو ں نے اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی اپیل پر 5,000کلو گرام سونے کا فراخدلانہ عطیہ دیا جس کا آج تک کوئی فرد یا ادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ 17ستمبر کا موضوع رٹ پٹیشن نمبر 30908/2016 کے تحت ہائی کورٹ آف آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں زیر التوا ہے اور ایسے میں جشن منانا عدالت کی توہین تصور ہوگا۔ ایسا ہی ایک میمورنڈم کمشنر پولس حیدرآباد مہیندر ریڈی کو بھی پیش کیا گیاہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: All india tameer e millat says liberation day will uncork ghosts of police action in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply