مودی حکومت نئے عدالتی نظام سے اونچی عدالتوں میں دلت ججوںکی قلت دور کرے گی

نئی دہلی: مودی حکومت کا آل انڈیا جوڈیشیل سروس کا آغاز کرکے اس میں ریزرویشن کا نظام نافذ کرنے کا ارادہ ہے تاکہ اونچی عدالتوں میں دلت اور پسماندہ طبقات کے ججوں کی خاطر خواہ نمائندگی ہوسکے۔ حکومت کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے یہاں بتایا کہ عدالتوں خاص طور پر اونچی عدالتو ں اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لئے کالیجئم کا جو نظام ہے، اس میں ججوں کا گروپ غیر شفاف طریقے سے نئے ججوںکا تقررکرتا ہے۔ کئی بار کم صلاحیت کے حامل وکیلوں کو جج بنادیا جاتا ہے۔
اس عمل میں صلاحیت کے ساتھ سمجھوتے کا پورا امکان رہتا ہے اور دلتوں اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کو اونچی عدالتوں میں جج بننے کا موقع نہیں مل پاتا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس کے جی بال کرشنن جنہیں اس وقت کے صر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام نے ملک کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا چیف جسٹس بننے والے پہلے اور واحد دلت ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت کالیجئم نظام کو ختم کرکے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کی طرز پر آل انڈیا جوڈیشیل سروس کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔
اس کے ذریعے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر آل انڈیا جوڈیشیل سروس کا افسر اپنی سروس کا آغاز کرے گا اور آگے سپریم کورٹ تک آئے گا۔ اس سے ججوں کے تقرر کا عمل صاف شفاف ہوگا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: All india judicial service insights in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply