سہراب الدین انکاؤنٹر کے فرضی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں، باقی22ملزمان بھی بری

ممبئی: یہاں کی ایک اسپیشل سی بی آئی عدالت نے سہراب الدین انکاؤنٹر کے 22ملزموں کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ تصادم فرضی تھا۔

نومبر 2005 میں دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے سہراب شیخ نام کے ایک غنڈے کو مبینہ طور پر ایک فری تصادم میں ہلاک کرنے کے الزام میں 22پولس اہلکار وں پر، جن میں زیادہ تر گجرات اور راجستھان پولس کے جونئیر افسران تھے،مقدمہ چل رہا تھا۔

اسی مہینے سہراب شیخ کی بیوی کوثر بی بھی ماری گئی اور دسمبر2006 میں شیخ کا ساتھی تلسی رام پرجا پتی بھی گجرات اور راجستھان پولس کے ساتھ مسلح تصادم میں مارا گیا۔

اسپیشل سی بی آئی جج ایس جے شرما نے کہا کہ چونکہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ملزموں کے خلاف ایسے کوئی ٹھوس اور دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکی جن سے وہ مجرم قرار دیے جاسکتے ہوں ہے اس لیے انہیں الزامات سے بری کیاجاتا ہے۔ استغاثہ نے 210گواہوں سے جرح کی جن میں سے 92مکر گئے۔

جس پر عدالت نے کہاکہ ”حکومتی مشنری اور استغاثہ نے پوری کوشش کر لی ،210گواہ پیش کیے گئے لیکن کوئی اظمینان بخش ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا نیز گواہ بھی پلٹ گئے۔اگر گواہ ہی خاموش رہیں تو اس میں استغاثہ کا کوئی قصور نہیں ہے۔

سی بی آئی کے مطابق سہراب الدین اور کوثر بی کو ،جو عید منانے حیدر آباد گئے تھے،22نومبر کو گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور راجستھان کے اسپیشل ٹاسک فورس ٹیم نے ان دونوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ ایک پرائیویٹ لکژری بس سے واپس آرہے تھے۔دونوں میاں بیوی اور پرجا پتی کا گجرات کے ولساڈ میں لایا گیا ۔

وہان سے پرجا پتی کو راجستھان پولس اودے پور لے گئی ۔سہراب الدین اور کوثر بی گجرات پولس احمد آباد لے گئی اور انہیں ایک فارم ہاؤس میں رکھا گیا۔26نومبر 2005کو سہراب الدین کو ایک دوسرے فارم ہاؤس لے جایا گیا جہاں اسے ہلاک کر دیا گیا۔

بعد میں ا سکی لاش سڑک پرڈال دی گئی اور پولس نے دعویٰ کیا کہ وہ اس جگہ تصادم میں مارا گیا۔3روز بعد کوثر بی بھی تصادم میں ماری گئی اور اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔27دسمبر 2006کو پرجا پتی بھی راجستھان ۔گجرات سرحد پر فرضی انکاؤنٹرمیں مارا گیا۔2010میں سی بی آئی نے کیس اپنے ہاتھ میں لیا اور اس وقت کے وزیر داخلہ گجرات اور موجودہ بی جے پی صدر امیت شاہ اورراجستھا ن و گجرات کے21پولس افسروں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

بعد ازاں ممبئی کی اسپیشل عدالت نے، جہاں 2013میں سپریم کورٹ کے حکم پر کیس منتقل کیا گیا تھا،امت شاہ اور دونوں رہاستوں کے سینیئر پولس افسران گجرا ت پولس سربراہ پی سی پانڈے اورانسداد دہشت گردی اسکوڈکے سربراہ ڈی جی ونجارہ سمیت16افرا کو بری کر دیا تھا۔باقی آج بری کر دیے گئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: All 22 accused in sohrabuddin murder case acquitted in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.