مسلم یونیورسٹی پھر تنازعات کے گھیرے میں

سہیل انجم
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر ایک تنازعہ کی زد میں آگئی ہے۔ یونیورسٹی کے یونین ہال میں آویزاں محمد علی جناح کی تصویر پر اعتراض اور اسے وہاں سے ہٹانے کے مطالبے کے بعد تصادم کی نوبت آگئی اور آج ایک بار پھر یونیورسٹی کا تعلیمی نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ اس یونیورسٹی کا قیام سرسید نے کیا تھا۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو تعلیمی طور پر مضبوط اور دنیاوی ترقی میں دوسروں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کے لائق بنانا تھا۔ ان کی نیک نیتی نے بڑا کام کیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کا جو تعلیم یافتہ طبقہ ہے اس میں اکثریت وہاں کے فیض یافتہ افراد پر مشتمل ہے۔ آج دنیا کے کونے کونے میں علیگیرین مل جائیں گے۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں علیگڑھ کے تعلیم یافتہ لوگوں سے واسطہ ضرور پڑے گا۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلم یونیورسٹی اور اس کے طلبا کا بھی بڑا رول رہا ہے۔ بے شمار ایسی شخصیات گزری ہیں جو وہیں کی تعلیم یافتہ تھیں اور جنھوں نے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ہے۔ سرسید کے مذہبی نظریات سے قطع نظر،یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اگر سرسیدنے تعلیم کا یہ باغ نہ لگایا ہوتا تو آج ہندوستانی مسلمان تعلیمی میدان میں سو نہیں پچاس سال ضرور پیچھے ہوتے۔ یہاں یہ بتانا بھی از حد ضروری ہے کہ اگر چہ اس کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے کیا گیا تھا لیکن اس سے بے شمار غیر مسلم افراد بھی فیض حاصل کر چکے ہیں اور آج بھی وہاں تعلیم پانے والوں میں غیر مسلموں کی خاصی تعداد ہے۔ یونیورسٹی میں مسلم و غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ سب کو یکساں مواقع و اختیارات حاصل ہیں اور سب کو ایک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سب کی یکساں قدر کی جاتی ہے۔ تاہم یہ دانش گاہ مسلمانوں کو بہت عزیز ہے۔ وہ جن چیزوں پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ وہ اسے قطعی برداشت نہیں کر سکتے کہ اس کے خلاف کوئی سازش ہو یا اس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے۔
لیکن ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے نزدیک سیاسی مفاد کے حصول کے لیے جو ایشوز بہت مرغوب ہیں ان میں ایک مسلم یونیورسٹی بھی ہے۔ چونکہ ان قوتوں کو معلوم ہے کہ اس ادارے کے نام پر دونوں قوموں کو ورغلایا جا سکتا ہے اور ان میں تفریق پیدا کی جا سکتی ہے اس لیے وہ وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی بہانے سے اس کو بحث کا موضوع بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل آر ایس ایس کے ایک مقامی لیڈر نے جن کا نام خیر سے مسلمانوں جیسا ہے یہ مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کیمپس میں آر ایس ایس کی شاکھا لگانے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک خط بھی تحریر کیا۔ ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ علیگڑھ سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ستیش گوتم نے مطالبہ کیا یونیورسٹی کے طلبا یونین ہال میں محمد علی جناح کی جو تصویر لگی ہوئی ہے اسے وہاں سے ہٹایا جائے۔ انھوں نے صرف مطالبہ کیا مگر دائیں بازو کی بعض تنظیموں کے کارکنوں نے یونیورسٹی کیمپس میں زبردستی داخل ہو کر اس تصویر کو ہٹانے کی عملی کوشش شروع کر دی۔ بہت سے کارکن بی جے پی کا جھنڈا لے کر باب سرسید کی جانب سے کیمپس میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے۔ طلبہ نے انھیں روکا اور ان میں سے بعض کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے کئی کارکنوں کی گاڑیوں کے نمبر بھی پولیس کو دیے اور مطالبہ کیا کہ چونکہ یہ لوگ کیمپس میں جبراً گھس کر یہاں کا ماحول خراب کرانے کی کوشش کر رہے تھے لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور انھیں چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پھر ان تنظیموں کے کارکن پہنچ گئے۔ اس بار ان کی تعداد زیادہ تھی۔ ان کے ساتھ پولیس بھی تھی۔ پھر وہ باب سرسید تک گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
جب طلبا کو معلوم ہوا تو اس بار وہ بڑی تعداد میں پہنچے اور ان لوگوں کو وہاں داخل ہونے سے روکا۔ اس پر جب پولیس نے دیکھا کہ ماحول خراب ہو جائے گا تو کیمپس میں داخل ہونے والوں کو وہاں سے ہٹا دیا۔ بلکہ طلبا کا الزام ہے کہ پولیس ان کو اپنی حفاظت میں وہاں سے نکال لے گئی۔ جب ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو طلبا نے بڑی تعداد میں سول لائنس تک مارچ کیا اور تھانے پہنچ کر دراندازوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پر پولیس والوں سے ان کی بحث ہوئی اور پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس تصادم کے نتیجے میں دو درجن سے زائد طلبا اور ایک درجن پولیس والے زخمی ہوئے۔ طلبا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا بھی مطالبہ ہے کہ جن پولیس والوں نے لاٹھی چارج کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ طلبہ نے پانچ روز تک تعلیمی سلسلہ بند کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
جہاں تک محمد علی جناح کی تصویر کی بات ہے تو وہ یونین ہال میں 1938 سے ہی لگی ہوئی ہے۔ لیکن آج تک کسی نے اسے ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ یونیورسٹی کے ترجمان پروفیسر شافع قدوائی نے راقم الحروف سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محمد علی جناح یونین کے لائف ممبر رہے ہیں۔ یونین کی جانب سے ان کو استقبالیہ دیا گیا تھا۔ جس کو استقبالیہ دیا جاتا ہے اس کی تصویر لگائی جاتی ہے۔ طلبا یونین کے ایک سابق صدر زیڈ کے فیضان نے راقم الحروف سے کہا کہ آج تک جناح کی تصویر ہٹانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اب کیوں کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو اس پر فخر ہے کہ محمد علی جناح یونین کے لائف ممبر تھے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ پولیس نے دراندازوں کو یونیورسٹی کے گیٹ تک آنے کیسے دیا۔ وہ اس میں کسی سازش کی بو محسوس کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ یونین ہال میں پنڈت نہرو، گاندھی جی، مولانا آزاد اور دوسرے بہت سے رہنماو¿ں کی بھی تصویریں لگی ہیں۔ یہ سوال یقیناً پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کرنے کی کیا وجہ ہے ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ زیڈ کے فیضان کہتے ہیں کہ مسلم یونیورسٹی کے معاملے پر عوام کو دو طبقوں میں تقسیم کرنے سے ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے اسی لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ جگہوں پر انتخابات ہو رہے ہیں اور 2019 میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اسی لیے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جہاں تک یونیورسٹی کیمپس میں آر ایس ایس کی شاکھا لگانے کے مطالبے کی بات ہے تو وہی سوال پھر اٹھتا ہے کہ اس وقت ایسا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ اور پھر مسلم یونیورسٹی ہی میں شاکھا کیوں لگے۔ اگر شاکھا لگانی ہی ہے تو حکومت ایک سرکولر جاری کرکے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور تمام کالجوں میں شاکھا لگانے کا حکم صادر کر دے۔ یہ تو بالکل اسی طرح کی کارروائی ہوئی جیسی کہ جے این یو میں کی گئی تھی کہ طلبا میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے وہاں ایک ٹینک نصب کر دیا جائے۔ ٹینک نصب کرنا ہے اور اگر اس سے حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نصب کیا جائے۔ در اصل اس قسم کے مطالبات سے ایک خاص قسم کی مقصد برآری کی بو آتی ہے۔ اسی لیے مسلم یونیورسٹی سے محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کے مطالبے کے پیچھے بھی کچھ اسی قسم کی کارستانی نظر آتی ہے۔
اب چند باتیں یونیورسٹی کے طلبا سے۔ بعض طلبا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی ایم پی نے ایک پلاننگ کے تحت جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس کا مقصد لوگوں میں تفریق پیدا کر کے سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایسے ایشوز اس لیے اٹھائے جاتے ہیں تاکہ ان کی بنیاد پر عوام کو تادیر ایک خاص قسم کی کیفیت میں مبتلا رکھا جائے اور اس کا فائدہ اٹھایا جائے۔ ایسے متنازعہ معاملات کو اگر آگے نہ بڑھنے دیا جائے تو شرپسند اپنے مقاصد میں ناکام ہو جاتے ہیں اور عوام کو بانٹنے کی ان کی سازشیں فیل ہو جاتی ہیں۔ جب یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ اس تمازعہ کا مقصد بھی کچھ ایسا ہی تھا تو دانشمندی کا تقاضہ تھا کہ شرپسندوں کو اس کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ جب بی جے پی ایم پی نے جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تو کہہ دیا جاتا کہ ٹھیک ہے ہم یہ تصویر ہٹا لیتے ہیں۔ ان کو یونین ہال میں بلایا جاتا اور ان کو دکھا دیا جاتا کہ دیکھو ہم نے وہ تصویر ہٹا دی ہے۔ اس کے بعد فوری طور پر یہ معاملہ ٹھنڈا ہو جاتا۔ پھر آپ جب چاہتے اسے آویزاں کر دیتے۔ کہاں کوئی روز روز جا کر یہ دیکھنے کی زحمت گوارہ کرتا کہ وہ تصویر ہٹائی گئی یا پھر لگا دی گئی۔ اس سے شرپسندوں کی سازشیں ناکام ہو جاتیں اور یونیورسٹی کا ماحول بھی خراب نہیں ہوتا۔ پولیس اور طلبا میں تصادم بھی نہیں ہوتا اور دو درجن طلبا زخمی بھی نہیں ہوتے۔ ایسے معاملات کو بہت مصلحت اور حکمت کے ساتھ حل کرنا چاہیے جذباتی انداز میں نہیں۔ اب اس معاملے پر بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور نیوز چینلوں پر مباحثے ہونے لگے ہیں۔ جناح کے بہانے مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال نہ تو ملک کے لیے اچھی ہے اور نہ ہی یونیورسٹی کے لیے اور نہ ہی طلبا کے لیے۔ درمیان میں یہ خبر آئی تھی کہ وہ تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ لیکن پھر کہا گیا کہ صفائی کا کام چل رہا ہے اس لیے ہٹائی گئی ہے۔ شام میں خبر آئی کہ اسے پھر لگا دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد علی جناح جنگ آزادی میں شامل رہے ہیں، ملک کو آزاد کرانے میں ان کی بھی قابل ذکر خدمات ہیں اور وہ ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبردار بھی رہے ہیں۔ انھوں نے قیام پاکستان کے وقت اور اس سے پہلے بھی اپنی بیشتر تقریروں میں ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ وہ تو ان کی موت کے بعد پاکستان کو دوسرے راستے پر ڈال دیا گیا۔ یہ بھی نہیں بولنا چاہیے کہ ان کو قائد اعظم کا خطاب کسی پاکستانی نے نہیں بلکہ گاندھی جی نے دیا تھا۔ لہٰذا ان کی تصویر کی بنیاد پر ایک تنازعہ کھڑا کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے اور کوئی ایسی تدبیر نکالنی چاہیے کہ یہ معاملہ یہیں پر ختم ہو جائے آگے نہ بڑھے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Aligarh muslim university and jinnah portrait in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply