آل انڈیا اکھاڑا پریشد نے نرمل بابا اور اسیمانند اسمیت14باباؤں اور سنت سادھوؤں کو فرضی قرار دے دیا

نئی دہلی:سادھو سنتوں کی فیڈریشن آل انڈیا اکھاڑہ پریشد نے سناتن دھرم کی غلط تشہیر کرنے یا مجرمانہ کارروائیوںمیں ملوث رہنے کا الزام لگاتے ہوئے 14 باباؤں اور سنتوں کو فرضی قرار دے دیا۔ پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی صدارت میں اتوار کی صبح ہوئی ایک میٹنگ میں متفقہ طور سے 14 باباؤں کو فرضی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جن باباؤں کو فرضی بتایا گیا ہے ان میں آسارام باپو عرف آشومل شرملانی، سکھویندرکور، سچدانندعرف رادھے ماں، ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ، اوم بابا عرف وویکانند جھا، نرمل بابا عرف نرمل جیت سنگھ، اچچھادھاری بھیمانند عرف شیورتی دویدی، سوامی اسیمانند، او نم شوائے بابا، نارائن سائیں، رامپال، کشی منی، برہسپتی گری اور ملکھان گری شامل ہیں۔ مہنت گری نے کہا کہ تمام 13 اکھاڑوں کے نمائندوں نے اجلاس میں حصہ لیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذہب کو بدنام کرنے والے فرضی باباؤں سے سماج کی حفاظت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فرضی سنتوں اور باباؤں کی وجہ سے ہی معاشرے میں سادھو سنتو ں کے سلسلے میں غلط پیغام جا رہا ہے، جنہیں روکنا ضروری ہے، اگر نہیں، تو ان کی وجہ سے ہی سچے سنتوں کے تئیں بھی معاشرے کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اکھاڑہ پریشدکے صدر نے بتایا کہ سناتن دھرم کی تشہیر کرنے والے فرضی باباؤں کے ذریعہ مذہب کو بدنام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ فرضی باباؤں کی وجہ معاشرے میں غلط پیغام جا رہا ہے جسے روکنا ہمارا فرض ہے۔ سچے سنت کبھی بھی خواتین کو اپنی شاگرد نہیں بناتے۔ انہیں مال ومتاع اور شان وشوکت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ ان کے لئے عوامی فلاح و بہبود ہی سب سے اوپر ہے۔ باگھمبری گدی میں تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہی میٹنگ میں اکھاڑہ پریشد کے نمائندوں نے کہا کہ ان14 فرضی باباؤں کی فہرست انتظامیہ کو بھیجی جائے گی اور ان سے درخواست کی جائے گی کہ کمبھ ، اردھ کمبھ اور ہر سال لگنے والے ماگھ میلے میں انہیں کسی قسم کا کیمپ لگانے کے لئے جگہ دستیاب نہ کرائی جائے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Akhil bharatiya akhara parishad releases list of fake babas in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply