شوہر بیوی کا مالک نہیں ،زنا کوئی جرم نہیں:سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے غیر ازدواجی(زنا ،حرام کاری) کے حوالے سے آئین کی دفعہ 497کو منسوخ کرکے اسے جرم کے ز مرے سے باہر کر دیا۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں جسٹس آر ایف نریمان، جسٹس اے ایم کھانویلکر، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اندو ملہوترہ پر مشتمل ایک پانچ ججی آئینی بنچ نے اگست میں اس معاملہ میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بنچ نے158سالہ قدیمی قانون کو دقیانوسی اور آئین کی دفعہ14اور21کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ غیر ازدواجی تعلقات رشتہ ازدواج ختم کرنے کی بنیاد تو بن سکتا ہے لیکن اسے جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

زنا قانون کے مطابق ایک مرد کو کسی شادی شدہ عورت سے اس کے شوہر کی مرضی کے بغیر جنسی تعلقات رکھنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔عرضی گذاروں نے استدعا کی تھی کہ تعزیرات ہند کی دفعہ497کو صنفی غیر جانبدار بنایا جائے۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ شادی کے بعد شوہر بیوی کا مالک نہیں بن جاتا۔ بنچ نے آئین کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ”میں، تم اور ہم“کی خوبصورتی ہے۔

چیف جسٹس مشرا نے کہا کہ مساوات ہر نظام کا نگراں اصول ہے۔بنچ کی واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترہ نے کہا کہ دفعہ497آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اور اس کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Adultery is no more a crime supreme court scraps 158 year old law in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment