اڈانی گروپ 50 ہزار کروڑ روپے کے گھپلے میں ملوث، سی بی آئی جانچ کرائی جائے : کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے اڈوانی گروپ کی بجلی کمپنیوں پر آلات کی قیمت 860 فیصد تک زیادہ دکھاکر پچاس ہزار کروڑ روپے کے گھپلے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ حکومت کو اس کی انکوائری سپریم کورٹ کے کسی جج کی نگرانی میں سی بی آئی سے کرانی چاہئے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹلی جنس کے ایک وجہ بتاو نوٹس کے مطابق اڈانی گروپ کی چھ کمپنیوں نے بیرونی ملکوں سے منگائے گئے آلات اور خام مال کی قیمت 860 فیصد تک زیادہ دکھائی جس کی وجہ سے ملک میں بجلی صارفین کو دو روپے فی یونٹ زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر نافذا س اڈانی ٹیکس کو فوراً واپس لینا چاہئے اور بجلی کی شرحوں میں دو روپے فی یونٹ کی کمی کی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ سنٹرل الیکٹرسٹی ریگولیٹری اتھارٹی(سی ای آر سی ) بجلی کی یونٹ کی قیمت بجلی کمپنیوں کی لاگت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر طے کرتی ہے۔ آلات او رکوئلہ وغیرہ خام مال کی قیمت زیادہ دکھانے سے بجلی کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی سی ای آر سی کے پاس بجلی کی شرح میں دو روپے فی یونٹ کم کرنے کی اپیل کرے گی۔ اس کے لئے کارروائی جلد ہی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی ای آر سی کو خود نوٹس لیتے ہوئے بجلی کی شرحوں میں کمی کرنی چاہئے۔ مسٹر ماکن نے مودی حکومت پر اڈانی گروپ اور دیگر بجلی کمپنیوں کے اس مبینہ بدعنوانی کو تحفظ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ دھاندلی سامنے آنے کے بعد اس وقت کی یو پی اے حکومت نے فروری 2013 میں اڈانی گروپ کی کمپنیوں کو ابتدائی وجہ بتاو نوٹس جاری کیا تھا۔ ان کمپنیوں کو آخری وجہ بتاو نوٹس 15مئی 2014 کو جاری کیا گیا۔ نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ان نوٹس پر آگے کی کارروائی نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے برخلاف نوٹس جاری کرنے والے ڈی آر آئی کے افسران کو معلوم ذرائع سے زیادہ جائیدا د کے الزام میں سی بی آئی کے چھاپے ڈالے گئے۔ حالانکہ ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جاسکا اور ان کو خاموش کردیا گیا۔
کانگریس رہنما نے ڈی آر آئی کے ذریعہ اڈانی گروپ کو جاری وجہ بتاونوٹس کی نقل جاری کرتے ہوئے کہاکہ گروپ کی کمپنیوں نے بیرونی ملکوں سے بجلی کے الات خریدے جن کی سپلائی براہ راست ہندوستان میں کی گئی لیکن ان کے کاغذات دوبئی اور جنوبی کوریا میں معاون کمپنیوں کے ذریعہ سے ہندوستان آئے۔ ادائیگی ہونے پر آلات کی سپلائی کرنے والی غیر ملکی کمپنی کو حقیقی قیمت ادا کی گئی او ربقیہ رقم اڈانی گروپ کی ماریشش میں واقع معاون کمپنی کو دی گئی۔ مسٹر ماکن نے کہا کہ اڈاونی گروپ کی کمپنیوں کے معاملے میں ٹیکس چوری او ر شیل کمپنیوں کا معاملہ دیکھا جانا چاہئے۔ کانگریس لیرڈر نے گھپلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنیوں نے درآمد شدہ کوئلہ کی قیمت 29ہزار کروڑ روپے اور آلات کی قیمت نو ہزار کروڑ روپے زیادہ دکھائے۔ اس کے علاوہ دس ہزار کروڑ روپے بجلی کی شرح زیادہ کرنے سے جمع کئے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت بدعنوانی کرنے والی بڑی مچھلیوں کو چھوڑ رہی ہے جب کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے نام پر عام لوگوں کا جینا محال کردیا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Adani group involved in rs 50000 cr power scam says cong in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply