وہ وعدے ہی کیا جو انتخابی نہ کہلائیں

سید اجمل حسین

یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ جب جب ہندستان میں انتخابی بخار پھیلتا ہے تو ہندوستانی ووٹرز بڑی قومی پارٹیوں کے ان وعدوں پر،جو صد فیصد عوام کے حق میں اور ان کی زندگی کا معیار بلند کرنے یا ان کو مالی فائدہ پہنچانے کے ہوتے ہیں ، آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔ کیونکہ یہ وعدے کوئی معمولی امیدوار نہیں بلکہ اس جماعت کا صدر یا وزیر اعظم امیدوار کرتا ہے جو ایک بڑی قومی پارٹی کا اہم اور بڑا رہنما ہونے کے باعث معتبر سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 1971میں جس طرح اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل بینکوں کو قومیانے اور والیان ریاست کا وظیفہ (پریوی پرس) بند کرنے کے بعد ”غریبی ہٹاؤ “ نعرہ لگایا تو کانگریس کے دو دھڑوں میں تقسیم ہوجانے کے باوجود ووٹروں نے اندرا گاندھی کے غریبی ہٹاؤ کے نعرے اور راجا مہاراجوںاور نوابوں کے وظیفے بند کرنے اور سب سے بڑھ کر بینکوں کو قومیانے کے اندرا کے فیصلے سے متاثر ہو کر راتوں رات کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

کیونکہ اس وقت ووٹروں نے یہی سوچا تھا کہ حکومت نے چونکہ بینکوںکو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اس لیے امیروں کی ساری دولت ،جو وہ بینکوں میں جمع کرتے تھے،حکومت جلد ہی غریبوں میں بانٹ دے گی ۔یوں کانگریس اپنے غریبی ہٹاؤ نعرے کو بھی عملی جامہ پہنا دے گی۔اور وہ بھی دولت مند ہو جائیںگے ۔یہ جادو سر چڑھ کر بولا اور کانگریس نے زبردست کامیابی حاصل کرلی۔ ٹھیک اسی طرح 2014میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے وزیر اعظم امیدوار نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ نے عین عام انتخابات سے قبل جب یہ اعلان کیا کہ پارٹی سوئس بینک میں جمع کالا دھن واپس لائے گی اور ہر ہندوستانی کے کھاتے میں 15لاکھ روپے منتقل کر دیے جائیں گے ووٹروں میں خوشی اور امید کی ایسی لہر دوڑی کہ انہوں نے بی جے پی کو ایسی سب سے بڑی واحد پارٹی بنا کر ایوان میں بھیجا کہ اسے حکومت سازی کے لیے حلیف پارٹیوں کی حمایت تک کی ضرورت نہیں تھی ۔لیکن کسی کے بینک کھاتے میں 15لاکھ روپے منتقل نہیں ہوئے ۔اور نہ ہی سوئس بینکوں سے کالا دھن واپس لایا گیا۔

یہاں تک کہ بات پرانی ہوتی گئی اور لوگ جب 15لاکھ رپے کے وعدے اور کالے دھن کی واپسی کو انتخابی وعدے کے طور پر دیکھنے لگے تھے اچانک ہی اس خبر نے سنسنی پھیلا دی کی سوئس بینکوں میں ہندوستانی دولت میں مزید 50فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ خبر تو پھیلا دی گئی لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ جو دس ہزار کروڑ روپے ہیں وہ صرف اس لیے کالا دھن ہے کہ وہ سوئس بینک میں جمع ہے۔ دراصل اس وقت ملک کے سیاسی افق پر عام انتخابات کے بادل اٹھنا شروع ہو گئے ہیں ۔اگرچہ ابھی مطلع جزوی طور پر ہی بر آلود ہے لیکن حزب اختلاف حکمراں جماعت کو گھیرنے اور دیوار سے لگادینے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیے رکھنا چاہتی۔سوئس بینکوں میں ہندوستانی دولت میں اضافہ کی خبر سوئس نیشنل بینک سے جاری کیے گئے اعداد و شمارسے منظر عام پرآئی ہے۔ایسی بات نہیں کہ صرف ہندوستان کی دولت میں ہی اضافہ ہوا بلکہ سوئس بینکوں کے تمام غیر ملکی ڈپازیٹرز کا پیسہ 2017میں بڑھ کر تقریباً100لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔

اس لیے یہ کہنا کہ سوئس بینکوں سے کالا دھن تو واپس لایا نہیں گیا بلکہ اس میں اور اضافہ ہو گیا حکومت کی ناکامی ہے غلط ہوگا ۔کیونکہ سوئس بینکوں میں صرف ہندوستان کا ہی نہیں بلکہ متعدد ملکوں کا پیسہ جمع ہے۔ ان میں چین سر فہرست ہے اور اس کے بعد روس اور میکسیکو ہیں جبکہ ہندوستان چوتھے نمبر پر ہے اور پانچواں نمبر ملیشیا کا ہے۔ لیکن کسی ملک میں اس معاملہ پرکوئی ہنگامہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملک میں اسے انتخابی موضوع بنایا گیا۔ جبکہ اس دوران چین، روس اور ملیشیا میں صدارتی و پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے ۔ اور میکسیکو میں تو بالکل ہی تازہ تازہ انتخابات ہوئے ہیں۔ اور ایک نیا صدر منتخب ہوا ہے ۔ اور یہ صدر بھی اس وعدے کے ساتھ بر سر اقتدار آیا ہے کہ وہ ملک اور اس کے عوام کا مستقبل روشن کر دے گا۔ یہ تو جس طرح جنگ اور عشق میں سب جائز ہے انتخابات کے دور میں انتخابی وعدے کی شکل میں یہ بھی جائز ہے۔ جب ایسا ہے تو پھر رونا کس بات کا۔تمام پارٹیوں کو حق حاصل ہے جو چاہے وعدے کریں۔ اگر یہ موضوع باعث تشویش ہوتا تو چین روس میں اقتدار کبھی کا تبدیل ہو چکا ہوتا ۔

لیکن اس کے برعکس وہاں شی جین پینگ اور ولادمیر پوتین مزید طاقتور بن کر ابھرے۔ ادھر ہندوستان میں ماہر اقتصادیات نے یہ کہہ کر بی جے پی کی حوصلہ افزائی کر دی کہ سوئس بینکوں کے کھاتے میں جو رقومات منتقل کی جاتی ہیں وہ براہ راست نہیں بلکہ جعلی کمپنیوں کے توسط سے بہماس یا پنامہ ہوتے ہوئے سوئس بینکوں میں جاتا ہے۔اور اگر سوئس بینک ہندوستانی کھاتے داروں کی تفصیل دے بھی دیں تب بھی وہ صرف انہی کھاتے داروں کی تفصیل دیں گے جن کے کھاتوںمیں رقم ہندوستان سے براہ راست منتقل کی گئی ہوگی۔اس لیے حکومت کو یہ الزام دینا کہ اس کی سرپرستی میں کثیر رقم بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے مناسب نہیں ہے۔جب والیان ریاست کے وظیفے بند کردینے اور بینکوں کو قومیائے جانے کے باوجود اندرا حکومت ” غریبی ہٹاؤ “کے نعرے کو عملی جامہ نہ پہنا سکی اور اس کے باوجود نئے ملینیم تک بر سر اقتدار رہی تو اگر مودی حکومت بھی اپنے15لاکھ کے وعدے کو پورا نہیں کر سکی تو کیا اسے دوبارہ موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ ہندوستانی قوم ہے جو بڑی صابر ہے۔ وہ جس طرح اندرا گاندھی اور ان کی کانگریس کو مواقع دیتی رہی مودی اور ان کی بی جے پی کو بھی دیتی رہے گی تاوقتی کہ کوئی دوسری جماعت میکسیکو کے نئے صدر کی طرح کوئی نیا اور دلفریب و عدہ کر کے ووٹروں کو اپنے حق میں نہ کر لے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A tale of gharibi hatao and rs 15 lakh promises in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply