رواداری کی مثال: سکھ نے قرآن کا پنجابی میں ترجمہ کیا ہندوؤں نے طبع کرایا

نئی دہلی :ایک ایسے دور میں جب ملک گیر پیمانے پر کچھ فرقہ پرست عناصرفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کے درپے ہیں اور عدم رواداری کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے ماضی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو وہ اس دور کے لوگوں کو شرمندہ کر دے گاکہ کس طرح ماضی میں ہندوستانیوں میں مذہبی رواداری اور تحمل مزاجی تھی۔
پنجاب کے ایک مورخ سبھاش پریہارکو، جو پیشہ سے مدرس ہیں اور پنجاب کی سینٹرل یونیورسٹی میں پروفیسررہ چکے ہیں،قرآن پاک کا ایک 105سالہ پرانا نسخہ ملا ہے ۔ قرآن پاک کے اس نایاب نسخہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ایک سکھ نے پنجابی میں ترجمہ کیا ہے اور دو ہندوؤں نے اس کی طباعت کی ہے۔وہ قرآن شریف کے اس نسخہ کی تفصیلات کو تصوف کی اس انسائیکلو پیڈیا میں شامل کررہے ہیں جو وہ تیار کر کررہے ہیں۔
سنت ویدیہ گوردیت سنگھ الموڑی (نرمل سکھ) نے اس قرآن پاک کا عربی سے گورمکھی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کی طباعت کے اخراجات دو ہندوو¿ں بھگت بدھامل اداتی میجوجات اور ویدیہ بھگت گوردتہ مل نے ایک دوسرے سکھ میلہ سنگھ عطار وزیر آباد کے ساتھ مل کر اٹھائے ہیں۔سبھاش پریہار کے مطابق امرتسر میں گورمت پریس کے بدھ سنگھ نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں تک قرآن پاک کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک ہزار نسخے طبع کیے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A sikh translated quran into punjabi while 2 hindus bore the expenses in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply