اسلامک سینٹر میںذاکر نائک کے خطاب پر اعتراض کرنے والے عارف محمد خان کو بے نقط سننا پڑی تھیں

نئی دہلی:سابق مرکزی وزیر اور اسلامی عالم عارف محمد خان نے جو ذاکر نائیک کی تعلیمات سے اتفاق نہیں کرتے اور ایک سال قبل انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں انہیں لکچر کے لئے مدعو کرنے کی مخالفت کر چکے ہیں، کہا ہے کہ ”نام نہاد اسلامی مبلغ “ کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کو باجواز ٹھہرا کر اسلامی سنٹر نے انہیں مایوس کیا تھا۔
مسٹر خان نے 17 جنوری، 2015 کو ایک احتجاجی خط لکھا تھا جس کے جواب میں اسلامک کلچرل سنٹر کے صدر نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک قرآن کے معروف عالم ہیں اور لوگ انہیں سننا پسند کرتے ہیں۔مسٹر خان نے جو 1980 کی دہائی میں شاہ بانو فیصلہ ا±لٹ دینے پر راجیو گاندھی سے ٹکرا گئے تھے یو این اائی کو بتا یا کہ اسلامی سنٹر سے انہیں جو جواب موصول ہوا تھا اس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ غیر ضروری طور سنٹر میں تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسٹر خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خط میں کہاتھا کہ ” ہمیں آج جس چیز کی ضرورت ہے اور سنٹر کو بھی ایسے مبلغوں کو بڑھاوا دینا چاہئے جو امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیں نفرت اور دہشت کو نہیں“۔اس خبر کے عام ہونے کے بعد کہ ڈھاکہ میں ایک مشتبہ حملہ آور ڈاکٹر نائک سے متاثر تھا ، متنازعہ مبلغ پر ان دنوں سرکاری ایجنسیوں کی نظر ہے۔
ڈھاکہ حملے میں ایک ہندستانی لڑکی سمیت 20لوگ مارے گئے تھے۔سنٹر کی طرف سے مسٹر خان کے نام خط میں جس کی نقل یو این آئی کے پاس موجود ہے، کہا گیا تھا کہ ”ڈاکٹر نائک کی فکر انگیز تقریر کا پر جوش خیر مقدم کیا گیا اور ستائش کی گئی“۔اس خط میں ڈاکٹر نائک کو”ایک معروف عالم، ماہر تعلیم، عالمی شہرت یافتہ مقرر قرآن و جدید سائنس “ قرار دیا گیاتھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: %c2%bdindia islamic centre expressed its displeasure over my objections against zakir naik in 2015 says arif khan in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply