ایسا کریں تورمضان میں پیٹ و معدے کے عارضہ سے بچا جا سکتا ہے

لوگ رمضان المبارک میں کمزروی، پیٹ اور معدے کی تکالیف کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ بے اعتدالی ہوتی ہے۔رمضان المبارک کے آغاز سے ہی ہر شخص کو اس بات کی فکر لگ جاتی ہے کہ سحر افطار کے وقت کیا کھایا جائے۔ ہم رمضان المبارک میں وہ چیزیں بھی کھالیتے ہیں جو روزمرہ زندگی میں نہیں کھا پاتے۔ اگر یوں کہا جائے کہ ہم دیگر مہینوں کے مقابلے میں ماہ رمضان میں کھانے پینے کی زیادہ بے قاعدگی کر بیٹھتے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ پورے مہینے تلی ہوئی اشیائ، مرچ مصالحے، کھٹے میٹھے پکوانوں کی بہار رہتی ہے۔

ہمارے ہاں لوگ ماہ صیام میں کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط اور اعتدال سے کام نہیں لیتے۔ سحری کے وقت انڈے، پراٹھے، چائے اور خوب بھاری غذائیں کھا کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہیں دن بھر بھوک نہیں لگے گی، جب کہ افطاری کے وقت بھی دسترخوانوں کو انواع و اقسام کی چیزوں سے بھر لیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ رمضان المبارک میں کمزروی، پیٹ اور معدے کی تکالیف کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں اور اسے رمضان میں خالی پیٹ رہنے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جب کہ اکثر اوقات اس کی وجہ غذائی بے اعتدالی ہوتی ہے۔

یہ بات ذہن میں ہونی چاہئے کہ کھانے میں طویل وقفہ معدے کو حساس بنا دیتا ہے، ایسے میں تلی موئی، مرغن اور مرچ مصالحوں والی غذائیں تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ان سے گریز نہیں کرسکتے تو کم ازکم معیاری اشیاءکا انتخاب کریں کیوں کہ غیر معیاری اشیاء کا استعمال بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔

اکثر لوگوں کو سحر و افطار میں نہایت شوق سے اچار اور چٹنیاں کھاتے دیکھا گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں کے مختلف بازاروں میں جو کھلا اچار اور چٹنیاں بکتی ہیں وہ گلی سٹری سبزیوں اور غیر معیاری اجزاءسے تیار کی جاتی ہیں جو منہ اور زبان کے علاوہ خوراک کی نالی اور معدے کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والے مصنوعی رنگ سے مختلف ظاہری و باطنی حساسیت (allergies) وجود میں آتی ہیں جو ایک بار شروع ہو جائے تو بڑی مشکل سے پیچھا چھوڑتی ہیں، علاوہ ازیں یہ مصنوعی رنگ سرطان کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے خاص طور پر صرف معیاری اچار اور چٹنیاں خریدیں تاکہ آپ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچے رہیں۔

رمضان المبارک میں سموسے، پکوڑے، جلیبی اور دیگر اشیاءکی دکانوں پر انتہائی رش ہوتا ہے، لوگ افطار سے گھنٹوں پہلے یہ چیزیں خریدنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ بازار میں فروخت کی جانے والی زیادہ تر اشیاءغیر معیاری تیل یا چربی میں تیار کی جاتی ہے جو ایک جانب صحت کے لیے خطرناک ہیں تو دوسری جانب انتہائی مہنگی پڑتی ہیں۔ اگر تھکن اور وقت بچانے کا معاملہ ہے تو آج بازاروں میں پکوڑے اور دہی بڑے سمیت بے شمار چیزوں کے صفائی سے تیار کئے ہوئے پیکٹ دستیاب ہیں جن کی تیاری منٹوں میں ہو جاتی ہے۔ ان اشیاءمیں آپ اپنی بسند کے مطابق تیل یا گھی استعمال کرسکتے ہیں۔

سحری اور افطار میں پھلوں کے جوس، دہی اور دودھ کا انتخاب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ افطار سے لے کر سحری تک پانی کا کثرت سے استعمال کریں تاکہ روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، سحری کے وقت بھی چائے کی بجائے پانی پینا بہتر ہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: What not to do and things to do in ramadan in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News
Tags: ,

Leave a Reply