تنہائی پسندی صحت کے لئے مضر

یوں تواب نوجوانوں کی زندگی چھوٹے سے فلیٹ سے لیکر ایک روم تک میں ہی سمٹ رہی ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ موبائل، لیپ ٹاپ، میوزک سسٹم اور ٹی وی وغیرہ کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جن میں وہ گھر آتے ہی مصروف ہو جاتے ہیں۔ یو ں بھی آج کل ہر کوئی اپنے آپ میں اتنا زیادہ مصروف ہو گیا ہے کہ اس کے پاس کسی دوسرے کے لئے وقت ہی نہیں ، پہلے یہ بات بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لئے کہی جاتی تھی لیکن اب تو ہر شہر کی یہی تصویر ہے۔ اپنی اس مصروفیت اور اکیلے پن سے ملنے والی آزادی سے نوجوان طبقہ چاہے خوش ہو لیکن در اصل یہ مصروفیت انہیں ایسا اکیلا پن تحفہ میں دے رہی ہے جو بعد میں انہیں ڈیپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے۔ شروع میں اس کا احساس کچھ حد تک کم ہی ہوتا ہے لیکن جب ہم پریشانی میں گھر جاتے ہیں اور ہمارا ساتھ د ینے کے لئے کوئی نہیں ہوتا ۔ تب یہ اکیلا پن کھل کر سامنے آتا ہے اور زندگی ہمیں ایک سزا لگنے لگتی ہے۔
نوجوانوں کو اکیلا پن ایک فیشن کی طرح اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ خو دکو سب سے الگ دکھانے کے لئے یہ لوگ اپنے پروفیشن میں ہی مصروف رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ کنبہ بھی اب چھٹی کے دن دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے بجائے شوپنگ مال میں گھومنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ مشکل تو تب آتی ہے ، جب لوگوں کے پاس گھر آئے مہمان کی خاطر تواضع تک کرنے کے لئے وقت نہیں ہوتا اور مہمان کو ایک آدھ دن بھی وہاں رکنا مشکل لگتا ہے۔ سماجی زندگی میں لوگوں کی سرگرمی کم ہو تی جا رہی ہے اور وہ آزاد رہنا چا ہتا ہے۔
لمبے عرصہ تک اکیلے رہنے سے انسان کے رویہ اور اس کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ اکیلا پن ہر شخص کو ذہنی مریض بنا دیتا ہے اور اس کے دماغ کی دیگر صلاحیتوں پر بھی اس کا بڑا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی نہیں اکیلے رہنے والے شخص کو ہائی بلڈ پریشر اور ٹینشن کے مسئلہ سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
ہر دن نجی زندگی میں قدم پسارتی ٹیکنا لوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے والی نوجوان نسل یہ سمجھ ہی نہیں پا رہی ہے کہ اصل میں اس کے پاس دوستوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ آفس ورک کو نپٹانے سے لیکر ای میل چیک کرنے اورسوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کے چکر میں اس کے پاس کچھ اور سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی ہے۔ یہ مصروفیت بھلے ہی انہیں کچھ وقت کے لئے سب کے ساتھ ہونے کا احساس کراتی ہے لیکن اس کا مقابلہ اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر کی جانے والی بات چیت اور موج مستی سے نہیں کیا جا سکتا اس لئے کام میں ڈوبے رہنے کے باوجود نوجوان اپنے اکیلے پن کو اندر محسوس تو کرتا ہے لیکن کسی سے بانٹنے سے کتراتاہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ لوگ اس پر ہنسیں گے۔
اگر اکیلا پن ستانے لگا ہو تو اس سے نجات پانے کے لئے اپنے ان دوستوں اور خاندان والوں کو پھر سے اپنے قریب لائیں، جن کو آپ نے کیرئر بنانے کے چکر میں پیچھے چھوڑدیا ہے۔ دنیا سے بے خبر ہو کر اکیلے رہنے سے بہتر ہے کہ لوگوں سے ملا جائے کیونکہ اکیلے رہتے۔ رہتے جینے کی کم ہوتی خواہش لوگوں کا ساتھ پا کر پھر کھل اٹھتی ہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Loneliness is harmful for healtah in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply