ہندوستان میں ہر سال70ہزار خواتین کی بچہ دانی کینسرسے موت

پنجی:ہندوستان میں ہرسال ایک لاکھ 30ہزار خواتین بچہ دانی کینسر میں مبتلا ہوجاتی ہیں جن میں سے علاج کی کمی سے 70ہزار خواتین کی موت ہوجاتی ہے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیداری اور بروقت احتیاط کرنے سے اس جان لیوا بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔عالمی صحت تنظیم کی کینسر ایجنسیوں کے ماہرین اور کینسر پر بین الاقوامی ریسرچ ( آئی اے آر سی )کے اسکریننگ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر آر شنکرناراینن نے یواین آئی کو بتایا کہ بچہ دانی کا کینسر دیگر سبھی طرح کے کینسروں سے مختلف ہے کیونکہ اگر بروقت احتیاط کی جائے تو اس سے بچا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں موثر احتیاطی اقدام کی کمی کے ساتھ ساتھ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی )کے انفیکشن کو روکنے کےلئے ٹیکہ اور جانچ کی کمی کی وجہ سے بھی اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔بچہ دانی کینسر کے معاملے میں ہندوستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔موصول اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں ہر سال ایک لاکھ 30ہزار خواتین بچہ دانی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں۔جن میں سے بیداری اور طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے 70ہزار خواتین کی موت ہوجاتی ہے۔پوری دنیا میں بچہ دانی کے کینسر کے پانچ لاکھ 61ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں اور اس سے ہر سال دو لاکھ 85ہزار خواتین کی موت ہوجاتی ہے۔مسٹر شنکرناراینن نے بتایا کہ ہندوستان میں بچہ دانی کے کینسر کی دواؤں اور جانچ کے بارے میں بیداری اور سرمایہ کاری کی سخت ضرورت ہے۔
اگر اب بھی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے تو ایسے مریض بڑھ کر ہر سال دو لاکھ 85ہزار ہوجائیں گے اور اس سے مرنے والی خواتین کی تعداد 2030 تک بڑھ کر ایک لاکھ چھ ہزار ہوجائے گی۔انہوں نے بتایا کہ بچہ دانی کینسر ایچ پی وی 13 کے انتہائی خطرے میں سے ایک ہے۔75فیصد بچہ دانی کینسر ایچ پی وی 16 اور ایچ پی وی 18 کی وجہ سے ہوتا ہے۔ایچ پی وی 16اور ایچ پی وی 18 کے انفیکشن سے بچنے کےلئے موثر اور محفوظ ٹیکے موجود ہیں۔عالمی صحت تنظیم نے 9سال سے 14سال تک کی لڑکیوں کےلئے چھ ماہ یا ایک سال میںایچ پی وی کی دو خوراک دینے کا مشورہ دیا ہے۔ڈاکٹر شنکرناراینن نے بتایا کہ ا?سٹریلیا ،امریکہ اور مغربی یورپ جیسے ممالک میں کلینیکل ٹرائل اور قومی پروگراموں میں یہ واضح ہوا ہے کہ ایچ پی وی ٹیکہ محفوظ ہے اور ایچ پی وی 16اور ایچ پی وی 18 کے انفیکشن سے بچنے کےلئے موثرہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں دنیا کے 80ملکوں نے قومی ٹیکہ مہم کے تحت ایچ پی وی ٹیکہ کو اپنے یہاں نافذ کیا ہے۔ایشیا میں بھوٹان ،بنگلہ دیش ،برونائی ،جاپان ،ملائشیا ،نیپال،متحدہ عرب امارات اور ازبکستان جیسے ملکوں نے بھی اپنے یہاں یہ ٹیکہ مہم شروع کی ہے۔ایشیا میں اس پر عمل در آمد کرنے والے ملکوں میں بھوٹان کم آمدنی والا پہلا ملک ہے جبکہ ملائشیا درمیانی آمدنی والا پہلا ملک ہے۔ آسٹریلیا،ڈینمارک ،کناڈا،امریکہ میں 08-2007میں ہی اس ٹیکے کا استعمال شروع کر دیا گیا تھا،جس سے یہ ٹیکہ لگوانے والی خواتین میں بچہ دانی کینسر کی بے حد کمی دیکھی گئی۔انہوں نے بتایا کہ پوری دنیا میں 30کروڑ سے زیادہ ایچ پی وی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ڈاکٹر شنکر ناراینن نے کہا کہ اس کے علاوہ اس کینسر سے موثر بچاؤ کےلئے اسکریننگ بھی اہم ہے جس کے ذریعہ اس کینسر کا پتہ لگاکر کاریوتھیریپی ،تھیموکوگولیشن اور لوپ الیکٹروسرجیکل ایکسیجن پروسیجر (لیپ) کے ذریعہ سے بہتر علاج مہیا کرایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تمل ناڈو اکیلی ایسی ریاست ہے جہاں وسیع پیمانے پر بچہ دانی کے کینسر کے لئے اسکریننگ پروگرام نافذ کیا گیا ہے۔
اس کےلے ایک کروڑ سے زیادہ خواتین کی اسکریننگ کئے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کا دورمکمل ہوچکا ہے۔ہندوستان میں ایچ پی وی ٹیکے اور اسکریننگ نے 90فیصد سے زیادہ بچہ دانی کینسر معاملوں میں بچاؤ کا کام کیا ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اب بھی ملک میں بچہ دانی کینسر سے بچاؤ کے سلسلے میں سیاسی بیداری اور ارادے اور عزم کی سخت کمی ہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: In india 73000 women diagnosed with cervical cancer die annually in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply