دہلی میں آلودگی کے باعث دل ،گردے، جگر اور سانس کے امراض میں اضافہ

نئی دہلی: یوں تو عام طور پر دہلی اور خطہ قومی دارالخلافہ فضائی آلودگی میں گھرا رہتا ہے لیکن دہلی فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ پینے کے خراب پانی کی وجہ سے اور بھی بدنام ہے۔

حال ہی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دہلی میں گردے، سانس ،قلب اور جگر کے امراض سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔

آئی سی ایم آر کے ماہرین نے 2017میں ہونے والی اموات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

جس کے مطابق 2017میں دہلی میں کم و بیش 81ہزار افرا کی موت ہوئی جن میں سے21.3فیصد افراد کی موت وبائی امراض(چھوت کی بیماری) مثلاً ملیریا، ٹائیفائیڈ، ہیضہ جیسے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے والے امراض میں مبتلاہونے سے ہوئی جبکہ57.6فیصد اموات غیر وبائی امراض مثلاً شوگر ، بلڈ پریشر، جگر، دل ، گردے اور سانس کے مرض کے باعث اور7.9فیصد سڑک حادثات میں ہوئیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دہلی میں آلودگی کے باعث سانس کے مرض میں بہت اضافہ ہوا ہے۔آئی سی ایم آر کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال کا کہنا ہے کہ غیر وبائی امراض (دائمی یا غیر مواصلاتی بیماریاں)سے ہونے والی اموات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس کے لیے عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔ صفدر جنگ اسپتال کے ماہر امراض گردہ ڈاکٹر ہمانشو ورما کے مطابق گردے فیل ہوجانے کے باعث اموات ہو رہی ہیں۔ تاہم لوگ قتاً فوقتاً جانچ کرانے سے اس مرض سے اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: In delhi most people die due to kidney heart liver and respiratory diseases in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.