ٹیلی ویژن اور موبائل فون بچوں میں امراض قلب کا باعث

نئی دہلی: ٹیلی ویڑن اور موبائل فون کی وجہ طرز زندگی میں آئی تبدیلی سے بچوں کے دل کی بیماریوں کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹینٹ اور پیڈیاٹرک محکمہ کے چیئرمین ڈاکٹر وی کے کھنہ نے یواین آئی کو بتایا کہ بچوں کی طرز زندگی میں تیزی سے آئی تبدیلی سے وہ کئی طرح کی بیماریوں کی زد میں آ رہے ہیں۔
آہستہ آہستہ یہ خطرہ ان کے دلوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔ ڈاکٹر کھنہ نے کہا ”تو جب جاگو تبھی سویرا کی طرز پر والدین اور بچوں کو آگاہ ہو جانا چاہئے۔“ انہوں نے کہا ”چونکہ کم عمر ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ بچوں کا دل سے متعلق بیماریوں سے بھی کوئی لینا دینا ہے، اس لیے کبھی دل سے منسلک کوئی تحقیقات ہم کرواتے بھی نہیں ہیں۔حال ہی میں میڈیا میں خبر تھی کہ ساتویں کلاس کے ایک طالب علم کی موت اسکول کے کھیل کے میدان میں اچانک ہو گئی۔
ایسی اچانک موت دل کی دھڑکن کے اچانک بند ہو جانے سے ہوتی ہے جسے سڈن کارڈیا اریسٹ (ایس سی اے) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں پوسٹ مارٹم کے بعد ہی موت کی وجہ کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ موت سے پہلے کسی طرح کی بیماری کا نشان سامنے نہیں آتا ہے۔اس طرح کے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ کچھ واقعات میں جینیاتی وجہ تھی اور بعض صورتوں میں دل کی دونوں شریانوںمیں خون جمع ہونے کی وجہ سے دھڑکن اچانک بند ہوئی۔
تاہم اس طرح کے معاملات کا تناسب کم ہے، لیکن جس طرح کی طرز زندگی بچے اختیارکررہے ہیں اس سے ان کے اور بہت سے سنگین بیماریوں کا شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Handheld devices should be banned for children in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News

Leave a Reply