سائیکل چلانا اچھی صحت کی ضمانت

نئی دہلی: باوجود اس کے کہ عالمی سطح پرصحت کے تئیں لوگوں کی بڑھتی سرگرمیاں اور حکومت و دیگر ایجنسیوں کی کوششوں کے باعث ہندوستان میں بھی سائیکل کا کریز بڑھتا جارہا ہے لیکن پھر بھی ا سکے استعمال میں ہندوستان دیگر ممالک کے مقابلے ابھی کافی پیچھے ہے۔

موجود اعداد وشمار کے مطابق ملک میں صرف 10فیصد لوگوں کے پاس سائیکلیں ہیں جب کہنیدرلینڈ میں نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ایک گھر میں ایک سے زیادہ سائیکلیں ہیں۔ جاپان میں 70فیصد اور چین میں 37فیصد آبادی کے پاس سائیکلیں ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دہائی میں ملک میں سائیکل کی تعداد میں تقریباً 3فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

سال 2001 میں 44فیصد یعنی 8.4کروڑ کنبوں کے پاس سائیکلیں تھیں جبکہ 2011میں 45فیصد یعنی 11.10کروڑ کنبہ کے پاس سائیکلیں تھیں۔ چین کے مقابلے وہاں دیہی علاقوں میں ہر گھر میں سائیکل ہے جب کہ ہندوستان میں 50فیصد گھروں میں ہی سائیکلیں ہیں۔ سستا وآسان اور ان وائرمینٹ فرینڈلی ذریعہ ہونے کے باوجود سائیکل کے استعمال میں دیگر ملکوں سے ہندوستان کے پیچھے ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے ’ غریبوں کی سواری‘ اور غیر محفوظ مانا جاتا ہے۔

ہندوستان میں سائیکل بنانے والی ایسوشی یشن کے جنرل سیکریٹری کے مطابق موٹر سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھنے سے سائیکل کی فروخت کم ہو گئی ہے، لیکن اب اس میں تیزی کا دور واپس لوٹ آیا ہے۔ گزشتہ سال ملک بھر میں ایک کروڑ سات لاکھ سائیکلیں فروخت ہوئیتھیں۔ اس کے باوجود ابھی ملک میں سائیکل چلانے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔

Title: growing cycles crez | In Category: صحت  ( health )

Leave a Reply