ڈینگی بخار نے ایک بار پھر انگڑائی لی

نئی دہلی: اگرچہ 2017-2018میں ڈینگی بخار کے کیسز میں کافی کمی واقع ہو گئی تھی لیکن 2019میں عالمی سطح خاص طور پر آسٹریلیا، کمبوڈیا، چین، سنگا پور، فلپائن، وتینام، ملیشیا، انڈونیشیا اور لاؤس میں اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔یہ ڈینگی جرثومہ ایڈیز ایجشٹی مچھر سے پھیلتا ہے ۔

اس مچھر سے جسے زرد بخار والا مچھر بھی کہا جاتا ہے ڈینگی کے علاوہ چکن گونیا، زکاءبخار اور میارو کے جراثیم بھی پیدا ہو تے ہیں جو جسم میں سرایت کر کے تیز بخار کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔لیکن ان مچھروں سے سب سے زیادہ ڈینگی مرض ہوتا ہے ۔

ڈینگو بخار 1775کے عشرے میں جب ایشیا ،افریقہ اور شمالی امریکا میں پھیلا تو لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔

کوئی نہیں سمجھ پارہا تھا کہ یہ بیمارئی اچانک کیسے ہوجاتی ہے کہ مریض چند روز میں ہی موت کے منھ میں چلا جاتا ہے۔ اس میں مریض کو یکدم تیز بخار ہو جاتا اور ساتھ ہی سر میں درد اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتاجبکہ بعض مریضوں کو پیٹ میں درد ،خونی الٹیاں اورخونی پیچش کی بھی شکایت ہو گئی۔

یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہے اور آخر کار مر گئے۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ان علاقوں سے لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ جب اس وقت کے طبیبوں اور ڈاکٹروں نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں یہ بیماری ایک مرتبہ پھر وبا کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔ جس میں جمہوریہ ڈومینک، کیوبا، تھائی لینڈ، مارٹینیک کے علاوہ ہندوستان میں بھی اس مرض نے بڑی سراسیمگی مچائی تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق ڈینگو بخار ایک خاص طرح کے ایڈیز نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے اور اس کی علامتوں میں تیز بخار، متلی، جسم میں اینٹھن اور پیٹھ میں درد جیسی شکایات شامل ہیں۔

بخار کی تیزی کی وجہ سے بعض معاملات میں دماغ کی رگ پھٹنے یعنی برین ہیمرج کا بھی خطرہ رہتا ہے۔اس کا مچھر دن کے اجالے میں کاٹتا ہے ۔یہ مچھر اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ اگر ایک بار پھی کاٹ لے تو دینگی کے جراثی انسانی جسم میں پھیل جاتے ہیں۔

Read all Latest health news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from health and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dengue long queues at pathology labs in Urdu | In Category: صحت Health Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.